اللہ کو یہی منظور تھا

یکے بعد دیگرے کئی دردناک مضامین لکھتے لکھتے آج میرا قلم بھی سراپا احتجاج تھا جس نے ابھی نیا نیا چلنا ہی سیکھا تھا کہ اتنے تکلیف دہ مناظرکو قلم بند کرنا یقینا اس کے حوصلے کا امتحان تھا مگر میں کیا کروں کہ۔ جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں کہاں سے لاوٴں…

ناموس رسالت اور میڈیا کا رویہ

ناموس رسالتﷺکے حوالے سے ہونے والے احتجاج میں ہونے والی تباہی اور ہلاکتوں نے دین کا درد رکھنے والے ہر شخص کو بے چین کردیا تھا۔ گستاخی رسول ﷺ پر دنیا بھر میں احتجاج ہوا لیکن جو تباہی اور خونریزی ہمارے یہاں ہوئی اسکی مثال کہیں اور دیکھنے میں نہیں آئی۔  اس احتجاج نے ہمارا…

ہائے میں مرا!

’’آہ ‘‘ ناشتہ کے اختتام پر سرد آہ بھر کے مجازی خدا نے اخبار تہہ کیا اور ہماری جانب بڑھاکر حیرت زدہ کردیا۔ جواباََ ہم نے دستی پنکھا ان کو تھمایا۔ لو کے تھپیڑوںمیں ان کی آہ توبلا مبالغہ ایرکنڈیشن کے درجہ چھبیس کا خنک جھونکا معلوم ہوا۔ایسی دو چار آہیں پورے ملک کی قسمت…

پاک وطن کو پاک بنائیں

صحبت و ہم نشنی کے اثر سے انکار ممکن نہں کہا جا تا رہا ہے کہ نیک ادمی کی صحبت تم کو نیک بنا دے گی اور بد بخت کی صحبت تم کو بد بخت بنا دے گی سو جب تک تم سے ہوسکے برے ہم نشین سے دور رہو کیونکہ برا دوست سا نپ…

الیکٹرانک میڈیا کی بے لگام آزادی

فوج کشی کے ذریعے اقوام کو غلام بنانے کا سلسلہ اہل یورپ نے شروع کیا. یہ کام تین صدیوں تک جاری رہا پھرمہذب یورپ نے طریقہ واردات تبدیل کردیا اور قوموں کوغلام بنانے کے لیے افواج کا استعمال ترک کردیاگیا اور سٹیلائٹ کمیونیکیشن کو استعمال کیا‘ پہلے فوجیں یلغارکرتی تھیں اور جسموں کو فتح کرتی…

پیمرا … پیمرا

نہ جانے کون سی گھڑی تھی کہ جب اخبار میں ایک اشتہار پر نظریں چپک کر رہ گئیں۔بڑی مشکل سے یعنی مجازی خدا کی پکار پر ہٹیں تو بھی دل ودماغ اس میں اٹک کر رہ گئے۔اشتہار کیا تھا دعوت نامہ تھا کہ آ بیل مجھے مار ۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے عوام کو…

جشن ِ سالِ نو

تین معصوم کلیاں اور کچل دی گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یقین نہیں آیا ناں کہ۔۔۔۔۔۔۔اور واقعتا پائوں تلے کچل ڈالی گئیں!!! اف اتنی سنگ دلی، شقی القلبی! وحشت وتشدد کی انتہا! آہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سالِ نو کی آمد پر جشن کیاہوا؟ غارتگری کا سامان ہوا۔ مگر ذرائع ابلاغ نے اس سنسنی خیز خبر کو چھپایا۔ دبیز پردے ڈالے رکھے۔ بریکنگ نیوز…

بوتل کا جن

با ت نہ نئی تھی نہ بظاہر بڑی! لیکن نہ جانے کیوں اسلم صاحب کی سوئی اٹک کر رہ گئی تھی. آفس سے آکر فریش ہونے کے بعد کھانے کی میز پربیٹھتے ہی انہوں نے ٹی وی ریموٹ اٹھالیا. یہ روز کا معمول تھا ہر لقمے پر چینل بدلنا! کچھ عادت سی ہوگئی ہے. لیکن…

سینہء بے سوز میں ڈھونڈ خودی کا مقام

یہ ایک نجی ٹی وی چینل کا پروگرام ہے۔ وائس آف امریکہ کا میزبان واشنگٹن ڈی سی کے ایک خاندان کا تعارف کراتا ہے۔ وجہ تعارف یہ ہے کہ سٹیلائٹ کے اس دور میں بھی یہ خاندان ٹیلی وژں کی ضرورت سے بے نیاز ہے۔ 20 برس کا نوجوان گویا ہوتا ہے اس  “ڈبے” نے…