ہائے میرا بچپن!

bachpanبچپن کاحساب کچھ یوں ہے کہ جوں جوں انسان پچپن کی طرف بڑھتا جا تا ہے بچپن زیادہ یاد آنا شروع ہوجا تا ہے ۔ یوں تو ایک خاص دور کے بچوں کا بچپن تقریبا یکساں ہی ہو تا ہے مگر چونکہ ہر فرد منفرد ہے تو ہر ایک کی علیحدہ کہانی ہو گی۔ آج سے تین چار عشرے قبل کے بچے معصوم ہوا کرتے تھے مگر ہم کچھ زیادہ ہی تھے یا پھر شریر بھائیوں کی موجودگی کی وجہ سے بنا دیے گئے تھے۔

 

ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جو کچھ یوں ہے کہ اس وقت ہماری عمر سات آٹھ سال ہوگی۔جب ایک دن صبح دادی جان نے ہمیں چونی (آج کے بچوں کوکیا معلوم؟ ان کے لئے عرض ہے کہ چونی ایک روپے کا چوتھائی یعنی چار آنے ہوتے تھے۔ آج کے دس روپوں کے ہم پلہ سمجھ لیں )دی کہ سامنے والے کھوکھے سے انڈے لے آ ئو۔ ہماری بانچھیں کھل اٹھیں اور اپنے پچھلے دن کے بارے میں سوچنے لگے کہ دادی کی اس خاص مہربا نی ہماری کس بات کا انعام ہے! جلدی سے sweet eggکا ڈبہ ( یہ ہمارے بچپن کی خاص چیز تھی ۔ میٹھی باریک انڈوں کی شکل کی گولیاں جو ایک موبائیل کے سائز کے ڈبے میں ہوتی تھیں۔اس ڈبے پر چھتری تلے مرغی کی تصویر ہوتی تھی ہلانے پر میٹھے انڈے ہتھیلی پر گرتے تو بس۔۔۔ کیا مصیبت ہے ! بچپن کاحال لکھیں تو ہر چیز explain کر کے بتا ئیں کہ آج وہ چیزیں ہی ناپیدہوگئیں)بھاگ کر لائے اور لان میں ہی بیٹھ کر کھانے لگے ایسا نہ ہو کہ برادران میںسے کوئی اچک لے اور خواہ مخواہ بٹوارا کر نا پڑے! بڑوں کی دھونس تو چھوٹوں کی ضد دونوں ہی خطر ناک تھے اس معاملے میں ! ڈبہ ختم کر کے جب اندر آ ئے تو دادی نے ہمارے خالی ہاتھ کو دیکھا اور انڈوں کا پوچھاتو صورت حال واضح ہوئی کہ وہ بیچاری آملیٹ کے لئے پیاز کاٹ کر منتظر تھیں کہ ہمارے آنے پر نا شتے کا ا نتظام ہو! جی نہیں ! ڈانٹ نہ پٹائی کچھ بھی نہ ہوا ہاں مگر اپنا لطیفہ بننااس وقت تودلچسپ لگ رہا ہے مگر اسْ عمر میں تو رو رو کر برا حال ہوتا جب بھی ہنس ہنس کر یہ واقعہ سنا یا جاتا۔

 

جہاں تک شوق کا معاملہ ہے ہر بچے کی طرح ہمیں بھی کہا نیاں سننابہت پسند تھا۔دادی جان سال کا آ دھا حصہ ہمارے گھر اور بقیہ آ دھا بڑے ابّا کے گھر حید رآ باد میں گزارتی تھیں ۔ بچوں اور بوڑھوں کی دوستی تو ویسے بھی ضرب المثل ہے کیونکہ ان دونوں اقوام کو ہی اصول و قواعد کے کڑے امتحان سے گزرنا پڑ تا ہے ہیں اور جو ’لوگ کیا کہیں گے !‘کے بجائے’ جہاں اور جیساہے‘ کی پالیسی پر یقین رکھتی ہیں۔ لہذا ہم بھی اپنی دادی جان کا انتظار ان کے جاتے ہی شروع کر دیتے تھے۔ اہم ترین وجہ ان کی کہانیاں ہوتیں جو ہم رات کو ان کے بستر کے گرد بیٹھ کر سنا کر تے تھے۔ چونکہ پڑھنے اور خصو صا کہانیاں پڑ ھنے کے بہت شو قین تھے ۔اسلئے موسم اور حالات کی پرواہ کئے بغیر دیواروں پر لکھے اشتہارات تک بڑے غور سے پڑھتے۔اس چکر میں بعض انہونی نہ ہوسکی کہ کئی دفعہ ہم بازار میں بچھڑنے سے بچے۔

 

نیک پر یوں کی کہانیاں بے دریغ پڑ ھنے ؍سننے کا نتیجہ تھا کہ ہم عام زندگی میں بھی کہا نیوں کی تیکنک استعمال کر نے کی کو شش کر تے تھے۔یعنی یہ دیکھ کر کہ برادران امی کو ستا رہے ہیں۔کبھی بات نہ مان کر تو کبھی شرارتوں میں !محلے والوں کی شکایتیں سن کر امی بے چاری پریشان ہو رہی ہیں۔ اس معاملے میں ہمارے نہ کوئی اختیارات تھے نہ حقوق! نہ وسائل نہ طاقت ! ہاں مگر ایک ہتھیار تھا! قلم کی قوت ! کسی پری کی طرف سے اپنے اس بھائی کے نام خط لکھتے جس نے کوئی نامعقول حر کت کی ہو۔ مدعا یہ ہو تا کہ تم نے فلاں فلاں غلط حر کت کی ہے لہذاتمہیں میری طرف سے انعام نہیں ملے گا۔۔۔ اب آپ خود سو چیں ایک بری سی ہینڈ رائٹینگ میں بچگانہ اسٹائل میں کی گئی بات کتنے مزاح کا باعث بنتی ہوگی ؟ اس وقت آپ سے یہ شئیر کر نا اتنا برا نہیں لگ رہا مگر اس وقت بڑی شر مندگی لگتی تھی حالانکہ یہ تذ کرہ ہماری تعریف میںہی ہو تا تھا۔بذریعہ قلم اصلاح معاشرہ کے جراثیم ہمارے اندر گویا شروع سے ہی تھے۔ہاںشعوری طور پر جب اس کا آ غاز کیا تو ظاہر ہے اس کی بنیاد کوئی مہر بان ،نیک پری نہیں بلکہ رضائے الٰہی ہوگئی۔

 

بچپن کا ایک واقعہ جو یاد آ تا ہے اس وقت کا ہے جب ہم جماعت سوم میں پڑ ھتے تھے ۔ہماری آ رٹ ٹیچر نے اعلان کیا کہ آ ئندہ وہ ہمیں واٹر کلرسکھائیں گی ۔ہر بچے کی طرح ہمیں بھی ڈرائنگ سے بڑاشغف تھا۔ لہذا گھر پہنچتے ہی امی کو یہ خوشی بھری اطلاع دی اور ساتھ ہی وہ فہرست بھی پکڑائی جو مس نے منگوائی تھی۔ پینٹ برش اور رنگ کے علاوہ رنگ گھولنے کے لئے پلاسٹک کے پیالے ، ایپرن اور فالتو کپڑے وغیرہ۔ آج تو اس میں سے کوئی بھی چیز پہنچ سے باہر نظر نہیں آ رہی مگر اس وقت واقعی بہت بڑی چیزیں لگ رہی تھیں۔ ذرا آٹھ سالہ بچے کے ذہن سے سو چیں!اور صورت حال کچھ یوں تھی کہ ہم شہر کے مضا فاتی علاقے میں رہتے تھے بارہ میل دور ! جہاں آ ج کل بڑے بڑے شاپنگ سنٹرز، دفاتر اور تعلیمی ادارے ہیں وہاں گھنا جنگل تھا ہوا کر تا تھا سڑک کے دونوںجانب! نز دیک ترین شاپنگ سینٹر صدر ہوا کر تا تھاجہاںصرف اسٹاف بس کے ذریعے جا یا جا سکتا تھا جو مقررہ اوقات میں ہی چلا کر تی تھی۔ امی جان پہلی بس سے ہی ہمارا سامان لانے روانہ ہو گئیں ۔

 

اس سامان کو دیکھ کر جو کیفیت ہوئی وہ آج بھی یاد ہے۔خو شی بھرا اضطراب! جیسے عید کا انتظار ہوتا ہے کپڑے اور جوتے سامنے رکھ کر! جب مطلوبہ پیریڈ شروع ہوا تو کچھ یوں منظر نامہ تھا کہ تقریباً پچیس بچوں اور بچیوں میں سے ہم واحد تھے جو پینٹنگ کا سامان لے کر آ ئے تھے باقی سب خالی ہاتھ سر جھکائے کھڑے تھے۔ ٹیچر نے پوری کلاس کو نافرمان کا خطاب دیا اور ہمیں اپنی میز پربلا کر ڈرائنگ سکھانے لگیں ۔ جس وقت وہ ہم پر تعریف کے ڈونگے بر سا رہی تھیں اسی وقت پرنسپل بھی کاریڈور سے گزریں ۔ٹیچر نے انہیں بتایا تووہ بھی ہماری کلاس کو ڈانٹنے لگیں۔ اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت ذرا بھی فخریہ احساس نہیں تھا۔یوں تواپنی تعریف ہر ایک کو پسندہوتی ہے مگر اس طرح نمایاں ہونے میں انسان کتنا تنہاسا ہو جاتا ہے!!! کیا خیال ہے؟شام کو اپنے پڑوسی ہم جماعت کے گھر کھیل رہے تھے۔ اس نے اپنی امی سے شکایت کی کہ مجھے رنگ کیوں نہیںمنگواکر دیئے آپ نے۔۔۔ اور جناب ہمارے سامنے ہی اسکی بڑی بہن نے اس کے کان اینٹھے یہ کہہ کر ’’ تم خود کتنے خراب لڑ کے ہو! تمہیں کچھ آ تا بھی ہے! اس کو دیکھو کتنی اچھی بچی ہے ۔۔۔‘‘ یقین کریں میرا دل چاہ رہا تھا میں اپنے رنگ اسے دے دوں ! اب اس وقت کے درست جذبات تو ذہن میں نہیں ہیں مگر اب سوچتے ہیںکیا حقیقی تعریف کی حقدار میری امی نہیں تھیں جنہوں نے مجھے مطلوبہ چیزیں اہمیت کے ساتھ مہیا کیں ؟؟آج ہم اس بات کا اظہار کر رہے ہیں مگر اس وقت تو یقینا امی کا شکریہ ادا نہیں کیا ہو گا!

 

اس واقعے کاڈراپ سین یہ ہوا کہ ہمارے چھوٹے بھائی نے جو ابھی اسکول نہیں جاتے تھے ایک دن موقع پاکر تمام رنگ خراب کر دیے ۔
اسکول سے و اپسی پر جب ہم نے دیکھا تو جو رونا شروع کیا وہ کئی دنوں بعد ہی ختم ہو سکا۔ یہ انسانی فطرت ہے جب کوئی نعمت ملتی ہے تو اپنے آپ کو اس کا حق دار سمجھتا ہے اور جب چھن جائے تو واویلا کرتا ہے ۔۔۔
بچپن کی یادوں میں ایک اہم واقعے میں بچھّو کا شکریہ!یہ کیا با ت ہوئی یہ تو انسان کو تکلیف دینے والاشش پایہ ہے جو احسان کا جواب بھی ڈنک مار کر دیتا ہے اس کا شکریہ کیوں ؟؟
قصہ کچھ یوں ہے کہ ہم سارے بچے اسکول بس کے ذریعے اپنے اپنے اسکول جا یاکر تے تھے ۔یہ رواج تو آ ج بھی ہے کہ بچے شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جاتے ہیں ۔فرق یہ ہے کہ اس زمانے میں دور دراز جانے کی وجہ اسکولوں کا گھروں سے فاصلے پرہونا ہوتا تھا اسٹینڈرڈ ہر گز نہیں تھے۔
تو جناب ! ہماری ایک بس کی ساتھی نے ایک دن ہمیں بتا یا کہ ان کے اسکول میں اردو پاکستانی فلم دکھائی جائے گی۔اس زمانے کے بچوں اور نوجوان نسل کے لئے سینما جاکر فلم دیکھنا بہت بڑی تفریح ہوا کر تی تھی ا ٓج کی طرح نہیں کہ فلم just a click پر ہو!بہت سے خاندانوں میں یہ شجر ممنوعہ ہوا کر تی تھی ۔شیطان اس وقت بھی اپنے تمام حربوں کے ساتھ میدان میں ہو تا تھا لہذا مختلف تعلیمی اداروںمیں اس کو دکھانے کااہتمام کیا جاتا کہ کوئی محروم نہ رہے۔ ساتھی کی اس خبر پر ہمارا بھی بہت دل للچا یا اور نہ جا نے کس طرح امی سے اجازت اور ٹکٹ کے پیسے لئے یہ غیر ضروری بات ہے۔

 

اصل واقعہ یہ ہے کہ اس دن ہم اپنی دوست کے اسکول میں فلم دیکھنے جانے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔جوتا پہنتے ہوئے بری طرح تکلیف ہونے لگی جب ہمارا جوتا اتر وایا گیا تووہاں بچھّو صاحب آرام فر مارہے تھے اورہمارے انگوٹھے پر ڈنک مار مار کر ہمارا شکریہ ادا کر رہے تھے۔آگے  آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں !ہمیں فوری طور پر ٹریٹمنٹ دی گئی ۔تکلیف اور فلم نہ دیکھنے کا افسوس ساتھ ساتھ رہے۔یہ واقعہ پڑھ کر آپ کو یقین  آگیا ہوگا کہ ہم نے اس کاشکریہ درست ادا کیاتھاکہ اس نے ہمیں ڈنک مار کر فلم دیکھنے سے بچا کر نہ صرف ہماری معصو میت کوداغدار ہونے سے بچایا بلکہ سنتّ کے مطابق چیزوں کو جھاڑ کر استعمال کر نے کی عادت ڈلوائی۔۔۔
میرا خیال ہے کہ بچپن نمبر کے لئے اتنے ہی واقعات بہت ہیں !ہمارا بچپن ہمارے دور کی جھلک ہے !  کیسا لگا یہ دور؟

فیس بک تبصرے

ہائے میرا بچپن!“ پر 6 تبصرے

  1. بہت خوب

  2. Asalam-o-alaikum
    Very interesting and funny. I enjoyed this writing.
    🙂
    Regards

  3. بہت اچھی تحریر ہے۔۔۔

  4. بچپن انمول ہوتا ہے اور جب یہ بات پتہ چلتی ہے تو بچپن جا چکا ہوتا ہے-

  5. آپ کی بہت اچھی کاوش۔ نہ صرف پڑھنے والوں کو اپنے بچپن کی یاد دلاتی ہے بلکہ خود آپ کے اپنے لیے بھی بہت قیمتی لفظ ہیں ۔ یادوں کو لفظ میں سمیٹنے کا ہبر اللہ کی طرف سے ایک بہت خاص تحفہ ہے جس سے ہم اپنی ذات کی ان بھول بھلیوں سے آگاہ ہوتے ہیں جنہیں وقت کی گرد دھندلا دیتی ہے۔ اپنی ذات کی یہی خوبیاں اور خامیاں آنے والے زندگی میں ہمارے کردار کی بنیاد بنتی ہیں۔
    لکھتی رہیں اور بےدریغ پوسٹ کرتی رہیں ۔
    ایک شکریہ ۔۔۔ذاتی طور پر ۔۔۔کہ یہی سب کچھ تو ۔۔اپنی ذات کے اسرار اور اٹھنے والے سوال میں بھی تین برس سے لکھ رہی تھی اور لوگوں کی تنقید کے بعد اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتی تھی کہہ اس دانشورانہ دور میں خاصا بچکانہ لکھتی ہوں۔ لیکن لکھنا ترک نہیں کیا پھر بھی کیونکہ جب تک ہم اپنی ذآت کے کونے کھدروں کے جالے صاف نہیں کرتے ہم کیونکر معاشرے میں سدھار کی بات کر سکتے ہیں۔ خالی ڈھول کی طرح بجنے والے بےشک جتنا بھی مجمع اکٹھا کر لیں لیکن اُن کے اندر کا خلا ان کے قریب جانے والے پہچان لیتے ہیں۔
    لفظ آشنائی میں خوبصورت ساتھ کے لیے ممنون ہوں۔

Leave a Reply