وہ صبح ہمیں سے آئے گی!

pak-flag2

دادا جان کی پژمردگی، اضمحلال، افسردگی کو ہم سب عمر کا تقاضہ سمجھ رہے تھے مگر بار بار یہی خیال آتا کہ پچھلے سال تک تو وہ نہایت ہشاش بشاش اور چست و چوبند نظر آتے تھے بچوں میں بیٹھتے تو اس طرح گپ شپ کرتے کہ دادی جان کو کہنا پڑتا۔۔۔
اے ہے آپ تو بچوں میں بالکل بچہ بن جاتے ہیں؟
ارے بیگم ہر انسان کے اندر ایک بچہ چھپا ہوتا ہے مگر آپ نہیں سمجھیں گی کیونکہ آپ تو سدا کی بوڑھی ہیں بوڑھی روح!
ہاں بس بس ہم ایسے ہی اچھے ہیں کم از کم بچوں پر رعب تو ہے۔۔۔
کبھی لوڈو کھیلتے ،کبھی کیرم اور جان بوجھ کر ہار جانے کی ترکیبیں کرتے پھر جب ہار جاتے تو جھوٹ موٹ روٹھ جانے کا اظہار بھی کرتے غرض ان کی شگفتگی خاندان کے اور بزرگوں کے لئے مثال ہی ہوتی تھی اس کے علاوہ ان کا مطالعہ اور مشاہدہ گہرا تھا گفتگو کے ذریعے اگلے شخص کے دل میں اترنے کا فن جانتے تھے تبھی سب بڑے اور بچے ان کا کہنا مان کر خوشی محسوس کرتے تھے۔

چند مہینوں سے ان کی طبیعت میں آنے والا انقلاب سبھی کو کھٹک رہا تھا مگر عمر کا تقاضہ کہہ کر سب حقیقت سے نگاہیں چرانے کی کوشش کر رہے تھے سب سے زیادہ فکر او رجستجو ان کے بارے میں ان کی پوتی حرا کو تھی آتے جاتے ان کا جائزہ لیتی رہی اور رپورٹ اپنی امی کو ضرور سناتی
’’امی جی میں نے دیکھا دادا جان بہت خاموش اپنے بستر پر لیٹے تھے جب میں کمرے میں جھاڑو لگانے گئی تھی وہ سوچ میں کم تھے میرے وہاں ہونے کی بھی انہیں خبر نہیں ہوئی جب میں نے کہا کہ آپ کرسی پر بیٹھ جائیں تاکہ میں بستر جھاڑ دو تو بولے رہنے دے بیٹی جیسا ہے ویسا ہی رہنے دے کوئی فرق نہیں پڑتا کیا ہو گیا ہے امی دادا جان کو؟‘‘
’’کچھ نہیں بیٹی تھک گئے ہیں آخر کب تک چونچال بنے رہیں گے دادی اماں نے جواب دیا تو فکر نہ کیا کر ٹھیک ہو جائیں گے۔۔۔‘‘
’’ارے ہاں دادی اماں وہ اگلے مہینے یوم آزادی بھی تو آ رہا ہے اس موقع پر دادا جان ضرور ٹھیک ہوجائیں گے جیسے ہر سال وہ ہمارے ساتھ مل کر جھنڈیاں بناتے اور سجاتے ہیں کتنے پھرتیلے ہو جاتے ہیں نا وہ اس وقت؟ ’’ ہاں ہاں تو فکر نہ کر میری بچی۔۔۔‘‘
مگر نہیں چودہ اگست کی تاریخ کے نزدیک ترین پہنچنے پر بھی وہ ویسے نہ ہوئے جیسے ہوتے تھے بچے ہلاتے بھی تو وہ ہوں ہاں کر کیااپنے کمرے ہی میں رہتے باہر نہ نکلتے بس حرا بار بار ان کے کمرے میں جاتی کبھی صفائی کیلئے کبھی کھانا دینے کے لئے اور اکثر و بیشتر اخبار پہنچانے اور خبریں بھی لایا کرتی ۔
’’پتہ ہے خرم، عباد، نازیہ تم لوگوں کو دادا جان آج کل بہت سارے اخبار پڑھنے لگے ہیں بلکہ اپنے سرہانے رکھے ہوئے ہیں کبھی ایک اخبار اٹھا کر دیکھتے ہیں کبھی دوسرا بلکہ ان میں خاص خاص خبرو ںپر نشانات بھی لگاتے جاتے ہیں ۔۔۔ ‘‘
’’ارے بھئی تم کو نہیں پتہ دادا جان سیاستدان بننے کی پریکٹس کر رہے ہیں خرم نے جواب دیا جو خود کو بہت عقل مند سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا تھا۔
چودہ اگست میں صرف ایک رات حائل تھی صبح یوم آزادی ہے سارے بچے زبردستی اپنے اپنے ماں باپ کا ہاتھ پکڑے دادا جان کے کمرے میں پہنچے حرا نے تو جھنڈیوں کی جھالر بھی اٹھائی ہوئی تھی بلکہ دادا جان کے کمرے میں پہنچتے ہی اس نے جھالر کا ایک سرا کھڑکی سے باندھا اور دوسرا سرا دوسری کھڑکی سے باندھ کر جشن آزادی کا آغاز کر دیا۔سب سلام کر کے صوفے کرسی اور دری پر بیٹھ گئے حرا لاڈلی تو دادا جان کے بستر پر چڑھی بیٹھی تھی ۔
’’دادا جان صبح یوم آزادی ہے آپ کچھ نہیں کر رہے اور نہ یہ کچھ کر رہے ہیں اس طرح تو یوم آزادی کا مزا نہیں آئے گانہ پلیز کم از کم اپنا پیغام تو ہمیشہ کی طرح ہمیں دے دیجئے تاکہ ہم اسے اپنے پاس نوٹ کر لیں؟‘‘
دادا جان اٹھ کر بیٹھ گئے بڑے چپ چپ سے ان کی نگاہیں سعیدہ آپی پر جم گئیں جو اسی سال بی ایڈ کا امتحان پاس کر چکی تھیں پھر آپی نے نظر اٹھتی تو فراز بھائی پر ٹھہر گئیں جو جانے کتنی ڈگریاں ڈپلومے اور کورس کر چکے تھے مگر فی الوقت کسی ٹیوشن سینٹر کے نگران تھے کسی مستقل جاب پر نہ تھے۔

’’میرے بچوں مجھے افسوس ہے کہ میں تمہیں مایوس کیا مگر میں کیا کروں میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے سب کچھ میرے اختیار سے باہر ہے صرف خواب دیکھنا ان کی تعبیر سجانا اور تانے بانے بننا ہی تو زندگی کا حاصل نہیں ہے؟‘‘
دادا جان آپ ٹھیک تو ہو جائیں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا آپ خوش ہوں گے تو ہم سب بھی خوش ہو ں گے؟
کیسے خوش ہو جائوں تم سب کو خوش دیکھنے کی تمنا میں تو اتنے برس گزر گئے میں نے اور تمہاری دادی نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ان دنوں ہمارے بچے چھوٹے تھے مگر ہمیں ان کی ضروریات کی بھی پرواہ نہیں ہوتی تھی تھوڑا بہت پکا کر انہیں کھلا کر ہم دونوں اپنے اپنے علاقے کی ذمہ داریاں سنبھال لیتے تمہاری دادی خواتین کی ذمہ داری سنبھالتیں او رمیں مردانے کی ذمہ داری سنبھالتا۔ان دنوں ہم اپنے بچوں کے روشن مستقبل بہترین تربیت ستھرے ماحول کی تمنا کرتے تھے ہم یہاں پہنچے تو ساری مصیبتیں، ہلاکتیں بھلا کر پاکستان کی تعمیر و ترقی میں مصروف ہو گئے زبیدہ نے محلے کے بچوں کو قرآن پڑھایا میں نے اردو لکھنا پڑھنا سکھایا خواندگی کی شرح بڑھانے کی کوشش میں ہم دونوں نے اپنا حصہ ڈالا۔ہم نے اس ملک کے لئے امن ، چین اور سلامتی کی خواہش کی تھی دعائیں کی تھیں مگر نہ جانے کہاں پر غلطی ہوئی کہ پاکستان تخریب کاری کا نشانہ بنتا چلا گیا۔ دھماکے، حادثے، قتل، اغوائ، ڈکیتی، تعصب، اقراباء پروری، رشوت ستانی، چوربازاری سب کچھ یہاں ہو رہا ہیپھر میںنے حکومتوں سے امیدیں باندھ لیں روزانہ اخبارات کا مطالعہ شروع کر دیا کہ شاید کسی حکومت کو اپنا وعدہ یاد آ جائے جو وہ اقتدار حاصل کرنے کے وقت عوام سے اور اپنے خدا سے کرتے ہیں وہ وعدہ جسے کر کے ہم نے یہ ملک حاصل کیا تھا۔۔۔
دادا جان کی آواز گلو گیر ہو گئی ’’ میرے بچو تم کو یاد ہو گا۔ پچھلے سال جشن آزادی کے موقع پر میں بہت خوش تھا بڑھ چڑھ کر تمہارے ساتھ کام کر رہا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ ان دنوں نئی حکومت نے اقتدار سنبھالا تھا وہ حکومت جس نے اپنی ساری انتخابی مہم اسلامی نظام کے وعدے پر چلائی تھی اور اس ساری مہم میں ایک مرد حق شناس اور مجاہدانہ نظم کے کارکنان کو ساتھ رکھا اب مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اس حکومت کے وعدہ وفا کرنے کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو گی مگر آہ۔۔۔ اور پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے!
ہمہ دم ہنستے مسکراتے دادا جان کو یوں روتا دیکھ کر سب ہکا بکا ہو گئے ۔ہاں ان کی اداسی اور خاموشی کی وجہ سمجھ میں آ گئی ۔۔۔
سب سے پہلے سعیدہ آپی اٹھیں اور دادا جان کے گھٹنے پر سر رکھ کر بولیں
’’ دادا جان ! آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں ۔۔۔ہم ہیں نا! آپ نے تعمیرپاکستان کی ہے ہم اس کی تکمیل کریں گے ۔۔۔‘‘ پھر فراز ، حرا اور دیگر بچے بھی جیسے ہوش میں آ گئے ۔
’’پاکستان کا مطلب کیا ؟ ۔۔۔لا الٰہ الا للہ۔۔۔‘‘
’ـ’ وہ صبح ہمی سے آ ئے گی ۔۔۔‘‘ ترانے کی پر جوش آ واز نے کمرے کی فضا بدل دی اور سب جھنڈیاں لگانے لگے ۔

عزیز قارئین!
یہ کہانی محترمہ آسیہ بنت عبداللہ نے۱۹۹۲ء میں تحریر کی تھی۔ملکی حکومت وہی تھی جو آج ہے ۔ صورت حال کچھ اور دگر گوں ہیں مگرامید کا دیا موجود ہے ۔ اور ہر نئی نسل کی طرح ایک نوجوان طبقہ آنکھو ں میں خواب سجائے تکمیل پاکستان کے ایجنڈے پر رواں دواں ہے ! چنانچہ اس کہانی کا انجام کچھ یوں ہوسکتا ہے ۔۔۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply