امامت کی تبدیلی

’’زمانے کی قسم،انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے، سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک اعمال کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے‘‘(سورہ العصر) اللہ نے کبھی بھی کسی بودی قوم کو امامت نہیں بخشی جب تک وہ عظیم مقصد یعنی ایمان، عمل صالح، حق اور صبر کے ساتھ ڈٹ جانے والی نہ ہوں دنیا میں ان ہی خوبیوں والی قوم امام ہوتی ہے۔ بنی اسرائیل نے جب یہ خصوصیات چھوڑ دیں تو اس سے امامت چھین کر امت مسلمہ کو دے دی کیوں کہ انہوں نے اللہ کی ناپسندیدہ چیزیں اپنا لیں تھیں۔

مسجدِاقصیٰ سے مسجد حرام:۔ ’’یہ تمھارے منہ کا بار بارآسما ن کی طرف اُٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ لو ہم اُس قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو مسجد حرام کی طرف رُخ پھیر دو۔ اب جہاں کہیں تم ہو اُس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرو‘‘(البقرا  ۴۴۱)  اللہ کے رسول ؐ مکہ سے ہجرت کے بعد سولہ سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے ۔ پھر کعبہ کی طرف رخ کر کے نمازپڑھنے کا حکم آیا۔ تحویل قبلہ سے پہلے رسول محترم ؐ  محسوس کر رہے تھے کہ اَب امامت بنی اسرائیل سے تبدیل ہو کہ رہے گی اور اَب امامت کا مرکز ابراہیم ؑ کی طرف یعنی مکہ کی طرف ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ اُس وقت آیت نازل ہوئی۔اللہ نے بنی سرائیل کوامامت یعنی دنیا کی پیشوائی کے منصب سے باضابطہ معزُول کیا اور اب پیشوائی امت مسلمہ کے حوالے کی۔

امتِ وَسَط:۔ اور اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک امّتِ وَسَط بنایا ہے، تا کہ تم دنیا پر گواہ ہو اور رسول  ؐ تم پر گواہ ہو۔البقرا۔ امتِ وَسَط بنانے کا مقصد ایک امتیازی نشان سے مراد یہ ہے کہ جب آخرت  میں رسول ؐ  اپنی اُمت پر گواہی دیں گے کہ اے ربّ میں نے تیرا پیغام امتِ مسلمہ تک پہنچا دیا تھا۔ اَب تم نے اس امت کو امتِ َ وسَط بنایا تھا یہ اِن کا رہتی دنیا تک کام تھا کے وہ دنیا کی قوموں تک تیرا پیغام پہنچائیں۔ یہ اعزاز کہ نبی ؐ کے بعد اس امت نے نبی ؐ کے قائم مقام کی ڈیو ٹی ادا کر کے دنیا کی قوموں کے سامنے نبی ؐ کی شر یعت کو نافذ کرنا تھا کیا اس امت نے یہ کام کیا؟ یہ ہے امتِ وَسَط کا مفہوم۔ اگر تم مومن ہو تو تمہیں اللہ ضرور کامیاب کرے گا۔ یہ ہے وہ کام جو امتِ مسلمہ کو اللہ کی طرف سے ملا تھا

غلبہ:۔ ’’دِل شکستہ نہ ہو۔غم نہ کرو۔تم ہی غالب رہو گے۔اگر تم مومن ہو‘‘۔(آلِ عمران ۹۳۱) ایک ہزار سال تک امتِ مسلمہ اس دنیا پر حکمرانی کرتی رہی خلفاء بنو امیہ نے بہت سے علاقے فتح کیے اور دنیا کے تمدن پر اپنا اثر چھوڑا، بوسنیا، اسپین، اور یورپ کے دوسرے علاقے اسلامی عثمانی سلطنت میں شامل تھے  امامت کی تبدیلی کی وجہ یہ تھی کہ جو اللہ نے احکامات اپنے پیغمبروں کے ذریعے  بنی اسرائیل کو دیئے تھے  وہ اللہ کے بندوں تک پہنچانے کی بجائے چھپا کر رکھ دیئے گئے بنی اسرائیل کے علماء نے اپنی مرضی دین کے اندر داخل کر دی اپنی خواہشات کو دین بنا لیا اور اللہ کے احکامات کو پس پشت ڈال دیا اگر کسی غریب سے جرم ہوتا تو اُسے اللہ کے دین کے مطابق سزا دیتے اور اگر یہی جرم کسی بڑے سے ہوتا تو اُس کی سزا کو ٹال جاتے یعنی انصاف بنی اسرائیل میں سے اُٹھ گیا تھا۔ یہ اللہ کا قائدہ ہے کے اگر کسی امت میں  سے  جب انصاف اُٹھ جائے تو اللہ کی سنت اپنا کام شروع کر دیتی ہے اور اسے منصب امانت سے معزول کر دیتی ہے اور یہی بنی اسرائیل کے ساتھ ہوا۔

بنی اسرائیل والے مرض:۔ کیا اب مسلمانوں میں یہ مرض نہیں پھیل گئے ؟جو بنی اسرائیل میں تھی کہ غریبوں کو تو سزا ملے مگر بڑی مچھلیوں کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا۔ اَب یہ فریضہ امامت نبی عربی  ؐ کی امت کے حوالے کیا گیا امت مسلمہ کو ایمان، عمل صالح، حق اور صبر اور عدل وانصاف، دیانت، شرافت، بہادری، شجاعت، ڈسپلن، وقت کی پابندی کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔ ورنہ کوئی بھی اللہ کا رشتہ دار نہیں۔ جو کرے وہ ہی بھرے گا۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply