حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا۔۔۔

surrender-signatureماہِ دسمبر شاعروں اور ادیبوں کے نزدیک ہمیشہ سے ہی اداسیوں کا استعارہ رہا ہو گا لیکن میں نے جب سے سنِ شعور میں قدم رکھا دسمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی ایک عجیب سے بے چینی اور بے سکونی طبیعت میں در آتی ہے،اور اس اداسی اور بے چینی کا تعلق اس ماہ کی 16 تاریخ کو تاریخ کے اس سیاہ ترین دن سے ہے جب مدینہ منورہ کے بعد اس صفحہء ہستی پر اسلام کے نام پر قائم ہونے والی دوسری مملکتِ خداداد کو دو لخت کر دیا گیا۔ قیام بنگلہ دیش کا سانحہ اگر چہ میری پیدائش سے بھی تین سال پہلے کا ہے  لیکن مجھے اس المیے اور دکھ کا احساس اپنی عمر کی پندرہ بہاریں دیکھنے کے بعد اس وقت ہوا جب میں نے سلیم منصور خالد کی کتاب”البدر”اور طارق اسماعیل ساگر کی کتاب “لہو کا سفر”کا مطالعہ کیا۔ 16 دسمبر 1971ء پاکستانی حکام اور عوام کا نظریہ پاکستان کی اسلامی اساس سے دوری اور غفلت کا تازیانہ ہے۔ سقوط ڈھاکہ نے‘ برصغیر پاک و ہند کی مذہبی، سیاسی ،سماجی ،عسکری اور معاشی زندگی میں نہ ختم ہونے والے اثرات مرتب کئے ہیں۔16 دسمبر کا افسوسناک دن ہماری تاریخ کا وہ سیاہ ترین باب لکھ گیاجب سقوط ڈھاکہ کا المیہ پیش آیا۔

 

سقوط ڈھاکہ کے المیہ میں شیخ مجیب الرحمن، یحیٰی خان، بھٹو اور اندراگاندھی جیسے کرداروں کا جو عمل دخل تھا ان میں مجیب الرحمن اپنے اہل خانہ کے ساتھ قتل ہوگیا۔ اندراگاندھی کو اس کے سکھ محافظ نے گولی ماردی اور بھٹو کو محمد خان قصوری کے قتل کےالزام میں پھانسی دے دی گئی اور یوں اس دور کے حالات و واقعات کے کئی کردار اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ آج جنرل نیازی اس دنیا میں ہے نہ یحیٰی خان لیکن جب بھی 16 دسمبر کا دن آتا ہے اس دور کے تمام کردار سامنے آجاتے ہیں اور پاکستانی قوم آج بھی اس دن کو یاد کر کے سوگوار ہوجاتی ہے۔لیکن اب کی بار دسمبر ایک بار پھر اس انداز میں وارد ہوا ہے کہ ایک بار پھر بنگلہ دیش میں خون کا کھیل شروع ہو چکا ہے۔نام نہاد “بنگلہ بندھو” شیخ مجیب الرحمٰن جسے اس کے اپنے ہی قریبی ساتھیوں نے بھارتی ایجنٹ ہونے کے الزام میں خاندان سمیت موت کے گھاٹ اتار دیا تھا کی واحد بچ جانے والی صاحبزادی  بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد اپنے “بھارتی آقاؤں” کو خوش کرنے کیلئے ایسے اقدامات اٹھا رہی ہے جن کا تصوّر ہی ہولناک ہے۔ بنگلہ دیش میں دینی جماعتوں کے بڑھتی ہوئی مقبولیّت نے بھارت اور بھارتی نواز حکمرانوں کے ہوش اڑا دئے ہیں جس کی وجہ سے وہ اس طرح کے گھناؤنے انتقام پراتر آئے ہیں اور”نورمبرگ”ٹائپ عدالتوں کے ذریعے سے متحدہ پاکستان کی حامی قوتوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا آغاز کر چکے ہیں جس کا پہلا نشانہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے راہنما عبدالقادر ملا بنے جنہیں 12 اور 13 دسمبر کی درمیانی شب پاکستان سے محبت کے جرم میں پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا۔اس خبر نے بلاشبہ دردِدل رکھنے والے ہر پاکستانی اور تاریخ کے ہر ذی شعور طالب علم کو افسردہ کر دیا ہے۔آج بھی “مکتی باہنی” کی باقیات اس ایجنڈے پر مصروفِ عمل ہیں کہ بنگلہ دیش کو بھی بھوٹان کی طرح بھارت کی طفیلی ریاست بنا دیا جائے جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں۔

 

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی وابستگی سے قطع نظر ان افراد کے چہروں کو بے نقاب کیا جائے جنہوں نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ ہم ابھی تک مختلف قومیتوں میں بٹ کر آپس میں اپنے اپنے مفاد کی خاطر دست بہ گریبان ہیں۔ہمارے حکمران ایک اور سقوط ڈھاکہ کے انتظار میں ہیں۔ ہم نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ افغانستان میں بھارت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں،بلوچستان میں بیرونی مداخلت روز بروز بڑھتی جارہی ہے،روشنیوں کا شہر کراچی لہو رنگ ہے،قبائلی علاقوں کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مقتل گاہ بنا ڈالا ہے اور ہم ہر چیز سے نظریں چرائے کشکول ہاتھوں میں  لئے بھیک مانگنے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔

 

کیا وه وقت نہیں آیا کہ پاکستان بنتے وقت اللہ سے کئے گئےوعدے کو پورا کیاجائے اور اسلامی اقدار کی جو دھجیاں اڑائی جارہی ہیں انکو روکنے کا کوئی سدباب کیا جائے اسکے لئے ضروری ہے کہ ہم تمام سیاسی بتون کو توڑ کر اللہ اور اسکے رسولﷺ کی اطاعت میں آجائیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کو مضبوط اور متحد رکھنے کا کوئی اور راستہ نہیں لیکن ہماری کیفیّت یہ ہے کہ

 

حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگ ٹھہرے نہيں حادثہ دیکھ کر

فیس بک تبصرے

حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا۔۔۔“ ایک تبصرہ

  1. حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگ ٹھہرے نہيں حادثہ دیکھ کر

Leave a Reply