آئیے! تبدیلی کے لیے

تبدیلی کاجذبہ، ہر انسان کی جبلت میں پایا جاتا ہے۔ تبدیلی اور تحرک دراصل زندگی کا دوسرانام ہے۔ زندگی بیدار و متحرک ہو تو تبدیلی کا پیش خیمہ ہوتی ہے ورنہ جمود، سستی اور غیر فعالیت قرار پاتی ہے۔ انسانوں کی اجتماعی کاوشیں تبدیلی میں کارگر ہوتی ہیں، اور دیرپا اور مضبوط تبدیلی تبھی آتی ہے جب کسی نظریے سے سرشار نظریاتی طور پر ہم آہنگ گروہ ایک جذبے کے ساتھ اس کے لیے کام کرتاہے۔

 

نبی مہربانؐ نے عرب کی سرزمین پر جس انقلاب کا ڈول ڈالا وہ افراد سے ہوتے ہوتے معاشروں تک پہنچا اور ایک دنیا کو تبدیلی کا درس دیا، اور افراد کو خود انقلاب برپا کرنے اور انقلابی رویے اپنانے کی طرف متوجہ کیا۔ بقول شاعر
تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر
اگر ہوسکے تو ابھی انقلاب پیدا کر

 

نبیؐ مہربان کا انقلاب کتنا مؤثر، کتنا ہمہ گیر اور کتنا ہمہ جہت تھا۔ آج تک اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے اس انقلاب کے اثرات پر لکھا جارہا ہے اور لکھا جاتا رہے گا کہ ایسے انقلاب چشمِ فلک نے کم ہی دیکھے ہیں۔

 

یہ کچھ لوگ ہیں جو تبدیلی کے جذبے کے ساتھ تحریک اسلامی کے مرکز منصورہ میں جمع ہیں ان کو جمع کرنے والے شمس الدین امجد ہیں جو مرکزی شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے روح رواں ہیں نشرواشاعت میں تھے تو انور نیازی کا دایاں بازو کہلاتے تھے آئی ٹی میں آئے تو اس کو نیا آہنگ اورِ جذبہ دیا۔

 

تبدیلی کے لیے جمع ہونے والوں میں مرد بھی ہیں اور خواتین بھی، خواتین کے لیے پردے کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ تاکہ ان کی سرگرمیاں تسلسل سے جاری رہیں ادھر دوسری جانب نوجوان زیادہ ہیں اور ان کا جذبہ اور اخلاص دیدنی ہے۔ یہ وہ چہرے ہیں جو Facebook پر ایک دوسرے سے آشناہوئے ہیں مگر اب یہاں مشینی رابطے حقیقی رابطوں میں ڈھل رہے ہیں، ایک دوسرے سے تعارف حاصل کیا جارہا ہے۔ اصل مقصد Changeہے۔

 

شعبہ IT مرکز نے دو روزہ سوشل میڈیا ورکشاپ کا انعقاد کر کے ایک اچھا قدم لیا ہے ورکشاپ کا عنوان بھی خوب ہے “Connect For Change” انتظامات بھی خوب ہیں مہمانوں کا استقبال بھی شایان شان ہے، رجسٹریشن، خوبصورت فائل، قرطاس، ہورڈنگ، بینرز اور دیگر امور بھی شعبہ IT کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ جس کی تحسین کیے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔ بلاشبہ سید وقاص جعفری، شمس الدین امجد، سعد خان، عمیر ادریس، ابراہیم قاضی نے ایک اچھا، خوبصورت اور بھرپور پروگرام تربیت دیا۔

 

سوشل میڈیا کا ’’جنون‘‘ ہے جو ہر طرف متحرک اور فعال نظر آتا ہے۔ یہ وہ جادو ہے جو سر چڑھ کے بول رہا ہے۔ سوشل میڈیا نے بلاشبہ دعوت کے ابلاغ کے لیے نئے نئے افق روشن کیے ہیں۔ مصر، تیونس اور لیبیا میں تبدیلی کے سفر میں سوشل میڈیا کا کردار نظر انداز کرنا ممکن نہیں، سوشل میدیا بہت کچھ ہے مگر سب کچھ نہیں۔

 

سید مودودیؒ نے کہا تھا کہ امامت کا دامن ہمیشہ علم کے ساتھ وابستہ رہے گا۔ علم کی وسعتیں انسان کو بصیرت و بصارت سے آشنا کرتی ہیں اور یہ علم ہی ہے جو تبدیلی کے امکانات پیدا کرتا ہے۔ جذبوں کو جلا اور قدموں کو تحرک آشنا کرتا ہے۔ یہ ورکشاپ صرف سوشل میدیا بارے شعور و آگہی کا ذریعہ نہ تھی بلکہ آپس کے میل جول، تبادلہ خیال، گفتگو کا ذریعہ بھی اس کے ساتھ ساتھ پابندی وقت، جذبہ ایثار و محبت کی آبیاری، نمازوں کی پابندی، مسجد کے ساتھ مضبوط وابستگی کا اہم ذریعہ بھی ۔ فروری کا مہینہ اور منصورہ کا خوبصورت ماحول، ہر طرف پھول کھلے ہوئے ہیں۔ قطار اندر قطار، عجیب رونق اور بہار کا پتہ دیتے ہیں۔ سبزہ و ہریالی مشام جاں کو معطر کرتے ہیں۔
لفظی تغیر کے ساتھ بقول اقبال
پھول ہیں ’’منصورہ‘‘ میں یا پریاں قطار اندر قطار
اودے اودے نیلے نیلے پیلے پیلے پیرہن

 

پروگرام کا آغاز تلاوت کلام مجید سے ہوا۔ سید وقاص جعفری نائب قیم جماعت نے دور جدید سوشل میڈیا کی اہمیت اور کام میں وسعت اور مؤثر پلاننگ کے ساتھ آگے بڑھنے اور دعوت ابلاغ کے لیے اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے بارے متوجہ کیا۔ برادرم زبیر صفدر ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ نے اعداد و شمار کی روشنی میں، سوشل میڈیا کے تعارف و آگہی، استعمال اور طریقہ کار بارے اچھی اور مفید گفتگو کی، سلمان شیخ نے اپنی گفتگو مین ویڈیو گرافی، فوٹو گرافی، ایڈیٹنگ اور عملی چیزوں کے بارے رہنمائی دی جس میں شرکا نے خصوصی دلچسپی لی۔

 

نماز اور کھانوں کے وقفوں کے دوران ورکشاپ کا ماحول، میل جول، رابطہ کاری اور تعارف کا سلسلہ جاری رہتا۔ نظریہ اور نظریاتی ہم آہنگی قربتوں کو فروغ دے رہی تھی۔ ڈاکٹر عبدالواسع شاکر کا پروگرام اپنی تاثیر اور اثرات کے اعتبار سے بہت اچھا تھا۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر کام کرنے بارے الیکشن میں حکمت عملی کے بارے رہنمائی دی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے آگہی کیسے ہو؟ حکمت عملی کیا ہو؟ اور ووٹرز میں ووٹ کی اہمیت کا احساس کیسے اجاگر کیا جائے اور الیکشن میں اسے کیسے استعمال کیا جائے۔ سوشل میڈیا ورکشاپ کا یہ پروگرام اپنی مثال آپ تھا جو بھی ملا اس نے اس کی تعریف کی۔

 

قیم جماعت جناب لیاقت بلوچ نے اپنے مخصوص اور دبنگ لب و لہجے میں ورکشاپ کے شرکاء کو امید اور جذبوں سے سرشار کر رہے تھے۔ ان کی گفتگو سے ایسے لگ رہا تھا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔ سوالات کے جوابات میں بھی ان کا انداز اپنائیت کا تھا۔ Facebook اور Twitter سماجی رابطے کے دو بہت اہم اور مؤثر ہتھیار بن کر سامنے آئے ہیں۔ ان پر شاہد عباسی نے گفتگو کی اور نئے رجحانات سے شرکاء کو آگاہ کیا۔

 

ورکشاپ کا دوسرا دن بھی بہت بھرپور تھا۔ بلاگز(Blogs) بارے دو پروگرامات تھے اور دونوں بہت عمدہ۔ زبیر منصوری نے نہایت نپے تلے اور دلچسپ انداز میں بلاگنگ کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالی اور شرکاء کو عملی مشق سے گزارا جبکہ فہد کیہر نے اپنے تجربات کی روشنی میں بلاگز (Blogs) بارے عملی مشورے دئیے اور شرکاء کو ابھارا کہ وہ بلاگز لکھنے کی طرف متوجہ ہوں۔ بلاگ کالم ہی کی ایک مختصر شکل ہے اور اس کے ذریعے اپنے جذبات و احساسات کو تبدیلی کے لیے کارگر اور مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے رائے عامہ کو ہموار کا کام کیا جاسکتا ہے۔

 

ورکشاپ کے دوران صوبے، مرکز اور حلقہ خواتین IT، اپنے اپنے حلقے کی مختلف نشستوں کے ذریعے تعارف اور تجربات آپس میں Shareکرتے رہے۔ ضلعی ITپنجاب کے ذمہ داران کی نشست میاں محمد زمان اور اویس اسلم مرزا کے زیر صدارت منعقد ہوئی جس کے مؤثر اور کارگر ہونے کی بازگشت اگلے روز تک سنائی دیتی رہی۔

 

مجموعی طور پر یہ سوشل میڈیا پر کام کرنے والوں کا اچھا اور عمدہ ’’اکٹھ‘‘ تھا۔ محترم امیر جماعت سید منور حسن اپنے اختتامی خطاب میں امیدوں کے چراغ روشن کر رہے تھے، جذبوں کو مہمیز دے رہے تھے۔ عزم، کردار اور جہاد کے نقوش اجاگر ہو رہے تھے اور اپنے حصے کا کام کرنے کا داعیہ فروغ پار ہا تھا۔ وہ تبدیلی کی نوید سنا رہے تھے۔ حقیقی تبدیلی کہ ، جو عوام الناس کے دکھ درد کا مداوا بن جائے، اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے اور انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر ایک رب کے آگے جھکنے کا پیغام دینے کی راہ ہموار ہوجائے۔ دعا کے ساتھ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔ اور تبدیلی کا عزم اور جذبہ لے کر ساتھی واپسی جارہے ہیں یہ جذبہ ہی ہماری اصل متاع ہے۔ یہ جذبہ زندہ ہے تو تبدیلی کی خواہش زندہ ہے اورس تبدیلی کی خواہش ایک دن انقلاب ہو کر رہے گی۔
آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہوجائے گی
پھر دلوں کو یاد آجائے گا پیغام سجود!
پھر جبیں خاک حرم سے آشنا ہوجائے گی

فیس بک تبصرے

آئیے! تبدیلی کے لیے“ ایک تبصرہ

  1. روداد پرھ کر ذہن تازہ ہو گیا

Leave a Reply