Category: ابلاغ
جمعہ27دسمبر کے روزنامہ جنگ میں الطاف حسن قریشی صاحب اپنے کالم میں خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ جناب سراج الحق کے
منور حسن صاحب نے ایک سیدھا سا سوال اٹھایا تھا کہ ’’ امریکی فوجی مرے تو وہ جہنم واصل ہوجائے
اسلامی کیلنڈر کے 1434 برسوں میں جہاں طائف کے بازار اور شعبِ ابی طالب کی گھاٹیاں ہیں ، وہیں بدر
مجھے اپ سے بہت کچھ کہنا ہے۔ اپنے خوابوں کی تعبیر کے اس سفر پر میں نے کیسے کیسے مصایب
لوگ کہتے ہیں کہ ٹیکنا لوجی نے فاصلے کم کیئے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔یہ درست ہے
کہتے ہیں کہ گیڈر کی موت آ تی ہے تو وہ شہر کا رخ کر تا ہے ۔ لگتا ہے
“گاما خان” نام تھا ان کا،نام یہی تھا یا شاید عرف العام ہو گیا بہر حال میں نے ان کے
تبدیلی کاجذبہ، ہر انسان کی جبلت میں پایا جاتا ہے۔ تبدیلی اور تحرک دراصل زندگی کا دوسرانام ہے۔ زندگی بیدار
’’ میڈیا تو بھوت بن گیا ہے ! ‘‘ ’’بھئی اب تو کچھ نہیں ہو سکتا !!! ‘‘ ’’ کیا
نظام تعلیم،نصاب تعلیم اور تعلیم کے مقاصد کا تعین ہی دراصل کسی قوم کے مستقبل کے تاریک یا روشن ہونے










