’’ میڈیا تو بھوت بن گیا ہے ! ‘‘ ’’بھئی اب تو کچھ نہیں ہو سکتا !!! ‘‘ ’’ کیا
’’میرے دل میں آ رزو پیدا ہوئی کہ میں اپنی اس شہزادی کے شاندار جیٹ میں بیٹھ کر ان کے
معزز قارئین! آ پ یقین کریں ہمارا یہ بلاگ ہر گز اس غیر مقدس تہوار کی ہجو یا پھر
آہ۔۔۔اوہ۔۔۔ اُف۔۔۔ بچنے والے شخص نے ٹوٹتی ہوئی سانسوں میں کہا اور حسرت سے سمندر کی طرف دیکھا جہاں اس
عورت کی مظلومیت پر آنسو بہانے کے ساتھ ساتھ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھا
دوپہر ساڑھے گیارہ یا پونے بارہ کا وقت تھا کسی سے ملاقات کر کے فلیٹ کی سیڑھیاں اترے تو کئی
ان لوگوں کی بہتات نہیں ہوگئی ہے ابّو ‘‘فیصل نے ایک خاص فرقے کا ذکر کرتے ہو ئے کہا۔ ملک
کیا اس پر بات کر نی چا ہئیے؟۔۔۔۔۔۔ یہ کون سا نیا واقعہ ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسا تو ہوتا رہتا ہے! اسکے
25 فروری کی صبح بستر میں ہی خیال آ یا کہ آج تو خواتین واک ہے! اٹھنے میں تیزی دکھائی









