’’میں جو کرسکتی تھی میں نے کیا عا صمہ!اٹھارہ سال تک خان صاحب کے ساتھ۔۔۔‘‘ ’’میں نے پارٹی کے لئے
’’واہ کیا زندہ دل اور پر امید لوگ ہیں یہ اخوانی۔۔۔‘‘ میں نے اپنی بہن کو اخبار میں چھپی تصویر
کہتے ہیں کہ گیڈر کی موت آ تی ہے تو وہ شہر کا رخ کر تا ہے ۔ لگتا ہے
لائٹ کو گئے سات گھنٹے ہو چکے ہیں۔ عاجز آ کر میں نے موم بتی کی روشنی میںلیپ ٹاپ کھول
’’جیل کا تا لا ٹوٹے گا ! الطاف ہمارا چھوٹے گا۔۔۔‘‘ پڑوسی ڈاکٹر صاحب کی ننھی منی بچی ہمارے اور
ظہر کا وقت ہوتے ہی قبلے کا تعین کرتے ہوئے کرسیوں کے پیچھے نا ہموار سطح پر سفری جاء نمازبچھا
یہ 29 فروری 2008ء کی صبح تھی ۔ لیپ ایئر! ہر چار سال بعد یہ تاریخ آ تی ہے ۔کتنی
سفر G -25 کا ہو یا کسی بوئینگ طیارے کا! آ گہی کے نئے باب کھولتا ہے!! ایسے ہی ایک










