سفاکیت ، غرور اور درندگی انسانیت کے ہر احساس سے عاری ہوتے ہیں۔یہ تو وہ خودساختہ دلیلیں ہیں اور کسی
پاکستانی قوم کو مایوسی ، بداعتمادی، بے یقینی ، بد دیانتی ، بے حسی ، دہشت گردی اور لاقانونیت جیسی
پاکستان میں سیکولر لابی پچھلے 65 برس سے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں پر تیشہ چلانے میں سرگرم عمل ہے۔ ایک
ابھی میڈیا پر عوامی لعن طعن کا سلسلہ تھما ہی تھا کہ ایک اور واردات ہوگئی جب ایکسپریس ٹی وی
کراچی میں یو ں تو قتل و غارت گری اب معمول کی بات بن گئی ہے ۔ روز کے دس
ملالہ میں شرمندہ ہوں، باوجود کوشش کے تمھارے لئے میری آنکھ سے آنسو نہیں نکل پا رہے، کیا کروں ۔۔۔؟
ملالہ اسوقت برطانیہ کے کوئن الزبتھ ہسپتال میں منتقل ہو چکی ہے جبکہ پاکستان کا الیکٹرانک میڈیا اسکی سانسوں کی
فقہی اختلافات کی بنا پر نمازوں کو الگ کرنے کا کوئی ثبوت سلف میں نہیں ہے۔ یہ فقہی اختلافات صحابہ
کون ایسا شقی القلب انسان ہوگا جو 14 سال کی ایک معصوم بچی پر سفاکانہ قاتلانہ حملے کیلئے وجہ جواز









