“مایوں، مہندی ہورہی ہے؟” “میلاد کا مہینہ شروع ہوگیا ہے کیا؟” “قرآن خوانی کی محفل منعقد کی جائے گی کیا؟”
پچاس ایکڑ خطہ زمین پر خیموں کا جو عارضی شہر آباد تھا جہاں ایک ٹاریخ رقم کی جا رھی تھی
انسانی سروں کا ایک سلسلہ تھا جوچلا آرہا رہا تھا۔ چھوٹے بڑے انسانی سر گویا امڈے چلے آرہے تھے۔ بغیر
27،28اور29 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی کے قریب مدینۃالعلم قرطبہ میں جماعت اسلامی
قافلے زاد سفر باندھ رہے ہیں ہزاروں لوگ رات دن اجتماع عام کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور مینار پاکستان
۹ نومبر کی تاریخ ہر سال کے کیلینڈر پر جلوہ افروز ہوتی ہے۔ اس دن کی اہمیت کے بارے میں
یہ چار سمت سے عشق بلا خیز کے قافلے کس سمت رواں دواں ہیں۔۔۔ یہ تو وہی جگہ ہے وہی
جماعت اسلا می ایک اصولی و نظریا تی تحریک ہے جو قرآن و سنت کی با لا دستی ، تقوی
شورش کاشمیری کہتےتھے کہ آج ہم مردہ یزید پر تو لعنت بھیجتے ہیں مگر زندہ یزیدوں کی پوجا کرتے ہیں۔









