“گاما خان” نام تھا ان کا،نام یہی تھا یا شاید عرف العام ہو گیا بہر حال میں نے ان کے
بنو مخزوم کے تاج کا سب سے روشن ہیرا،جو کسی بھی میدان جنگ کی آبرو ہوا کرتا تھا، فتح جس
خوش آمدید، اے نیکیوں کے موسم بہار، تیرا آنا مبارک، تو پورے ایک سال بعد واپس آیا ہے اور تجھے
زندگی کے بعض دکھ اس قدر گھمبیر ہوتے ہیں کہ بھلائے نہیں بھولتے ۔ان کی کسک زندگی کے ساتھ قائم
میرے پاس تاریخ کے جھروکوں سے ایک تصویر ہے آیئے میں آپ کو وہ تصویر دکھاتا ہوں۔۔۔ یہ 12فروری1949کا
فراعین مصر کی شقی القلبی کے بارے میں کون نہیں جانتا۔ کہیں پڑھا تھا کہ جنگ یوم کپور کے موقع
لیجیے بنگلہ دیش کے چار شہروں میں کارپوریشن میئرکے انتخابات میںسابقہ وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے 18جماعتی اتحاد نے معرکہ
اس تصویر کی کاٹ کتنی گہری ہے ایک معصوم بچی اپنے والد کی تلاش میں اپنی ماں کے ہمراہ انصاف
ڈاکٹر محمد مرسی کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہونے پر مصر کی افواج نے اندرونی اور بیرونی دباؤ کے










