’’تم عالم کا کورس کیوں نہیں کرتے؟؟؟‘‘ کچھ عرصے پہلے مجھ سے یہ سوال میرے ایک عزیز دوست نے کیا۔اس
کیسے غم ناک دن ہیں اور راتیں۔ دسمبر ایک بار پھر آنکھوں کو لہو رلاگیا۔ میرے قبیلے کے ایک سردار
محرم کی دس تاریخ اور ہجری سن 61 ( 680 سن عیسوی)کو سیدنا حسین ا بن علی ؓ نے اپنی
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا لوگ ٹھرے نہیں حادثہ دیکھ کر سقوط ڈاھاکہ کی کہانی کا سب
شہید ِ پاکستان” عبد القادر مولاؒ پر لگائے جانے والےقتل اور آبرو ریزی کے الزام بے نقاب1971ءمیں البدر کا پاکستان
جرم بہت سنگین تھا ان کا اس لیے سزا بھی بہت سخت اور اپنے تئیں عبرت ناک دی گئی ہے۔ایک
چند دن پہلے چھٹی جماعت میں پڑ ھنے والی میری بھتیجی نے بتایا کہ ہماری ٹیچر نے ہمارے ہاؤس کو
ماہِ دسمبر شاعروں اور ادیبوں کے نزدیک ہمیشہ سے ہی اداسیوں کا استعارہ رہا ہو گا لیکن میں نے جب
دسمبر ۔۔۔ نے پھر دسمبر کی یاد تازہ کر دی ۔ ایک ایسی یاد جو ہمیشہ آنکھوں کو آنسوؤں
کہتے ہیں کہ قت سب سے بڑا منصف ہوتا ہے اور وہی حقائق سامنے لاتا ہے۔ کل عبدالقادر ملا شہید










