وہ کردار جس نے شہرت کی بلندیوں کو چھوا ، وہ ہے “نامعلوم”۔ جی ہاں۔۔۔ اس کا نام ہی “نامعلوم”
بارہ مئی 2004ء اور بارہ مئی 2007ء پاکستان بالخصوص کراچی کی تاریخ کے سیاہ ترین دن ہیں ۔ وہ دن
اس وقت میرے سامنے شہر قائد میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے مختلف واقعات
لیجئے صاحب خبر ہے کہ لندن میں مقامی کمیونٹی نے ایم کیو ایم کے خلاف پمفلٹ تقسیم کئے ہیں اور
شہر کی معروف شاہراہ سے گذرتے ہوئے چوراہوں پر تبدیلی کا عمل نگاہوں نے جذب کیا تو ارد گردکے مناظر
اہل کراچی بھتہ خوری سے اچھی طرح واقف ہیں۔ آخر کار بیس سال سے زائد عرصہ ہوگیا ہے انہیں بھتہ
میرا کراچی ایک بار پھر لہو لہو ہے۔صورتحال یہ ہے کہ پہلے ہم لوگ بارہ مئی 2007 کو روتے تھے
کچھ لوگ اور گروہ ایسے ہوتے ہیں جو کہ شیشے کے گھروں میں بیٹھ کر دوسروں پر سنگ باری کرتے
جنوری1994 ڈکیتیاں: 5 جنوری :کراچی میں ڈکیتی کی 18وارداتیں،مزاحمت کرنے پر دو سگے بھائی ہلاک کردئے گئے۔ 9جنوری :کراچی شہر
میرے دوستو! میرے دوستو! میرے واسطے پھول لاتے رہو گیت گاتے رہو میں پھول چنتا رہوں، گیت سنتا رہو ں





