جنگ ختم ہو چکی تھی مسلمان فتح سے ہمکنار ہو چکے تھے قیدیوں کو گرفتار کر کے ان کی مشکیں
ٹیلی ویژن کی سکرین پر جلتی لاشیں،گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور آنسو گیس کے دھوئیں نے ایک سوگوار منظر طاری کر
لفٹی چاچاہمارے شہر میں کب آیامجھے یہ تو معلوم نہ ہو سکا لیکن ا س کے ہاتھوں کے بنے دہی
“گاما خان” نام تھا ان کا،نام یہی تھا یا شاید عرف العام ہو گیا بہر حال میں نے ان کے
بنو مخزوم کے تاج کا سب سے روشن ہیرا،جو کسی بھی میدان جنگ کی آبرو ہوا کرتا تھا، فتح جس
زندگی کے بعض دکھ اس قدر گھمبیر ہوتے ہیں کہ بھلائے نہیں بھولتے ۔ان کی کسک زندگی کے ساتھ قائم
میرے پاس تاریخ کے جھروکوں سے ایک تصویر ہے آیئے میں آپ کو وہ تصویر دکھاتا ہوں۔۔۔ یہ 12فروری1949کا
اس تصویر کی کاٹ کتنی گہری ہے ایک معصوم بچی اپنے والد کی تلاش میں اپنی ماں کے ہمراہ انصاف
مصر میں ایک منتخب حکومت کا تختہء الٹ کر اس کے خلاف فوجی بغاوت پر دنیا میں جمہوریت کے نام









