پھر میری پسماندگی کو ارتقا درکارہے!

awareness

میں نے اپنے رونے اور گھگھیانے سے امی کو اتنا متا ئثر کر لیا تھا کہ وہ میرا مقدمہ لے کر ابّا کے پاس چلی گئیں
“ارے نہیں بے وقوف! وہ تو پیار سے ایسا کرتا ہے۔۔۔ وہ تو اتنا مہذب ہے! اس کے والدین اتنے با شعوراور تعلیم یافتہ ہیں۔ جانوروں تک پر اتنے مہربان ہیں وہ کسی کو کیوں ستائیں گے؟”

یہ سب کہہ کر اباّ نے مجھے تو چپ کراکر دوسرے کمرے میں بھیج دیا مگر امّی نے جو زیر لب کہا وہ اصل حقیقت تھی
“مجھے پتہ ہے وہ لڑکا ہمارے بیٹے کے ساتھ زیادتی کرتا ہے مگر اس کو روکو کہ اس کے خلاف زیادہ باتیں نہ کرے ۔ اگر وہ بدک جائے گا تو ہمارے لیے بڑی مشکلات کھڑی ہوجائیں گی۔۔۔”

یعنی جس حقیقت سے نظریں چرانے کامشورہ مجھے میرے والدین دے رہے تھے خود اس کا ادراک ان کو بھی تھا یعنی وہ لڑکا میرے والد کے بگ باس کا بیٹا تھا کس طرح میری زندگی اجیرن بنائے ہوئے تھا۔ نہ صرف میری بلکہ ان تمام ساٹھ ستّر چھوٹے بڑے لڑکوں کی، جن میں سے کئی اس سے عمر، ڈیل ڈول، صلاحیتوں اور رنگ روپ میں کہیں بہتر تھے۔ صرف اور صرف اس وجہ سے کہ ہمارے والدین اس کے والدین کے زیر اثر تھے ہم سب اس کے زیر عتاب تھے۔

مجھے یاد ہے میرے نانا جان کی تعزیت کے بہانے اس کی ماں میرے گھر آئیں تو نخوّت سے انہوں نے رومال ناک پر رکھا ہوا تھا اور بجائے میری ماں کے آنسوئوں کو پونچھنے کے ہمارے گھر کی غربت اور تنگ دستی پر بحث کر نے لگیں۔ اتنا ہی بس نہیں تھا بلکہ ہمارے گھر کی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔رہی میری معصوم ماںتو کچھ شدت غم اور کچھ مروّت و اخلا ص کی وجہ سے احساس سے عاری تھیں مگر میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں اس عورت کا منہ نوچ لوں! جس کو خوش کرنے کے لیے میرا گھر ویران تھا وہی اس کی زبوں حالی پر ناک بھوں چڑھا رہی تھی۔

مجھے پتہ تھا کہ کس طرح میرے باپ نے اس عورت کو سالگرہ کا تحفہ دینے کے لیے میری ماں کے یاقوت جڑے کنگن بیچ ڈالے تھے اور جس کے جواب میں ہمارے گھر باسی اور غیر معیاری کھانا بھیجا گیا تھا۔ پھر اس کے بیٹے کو کامیابی پر انعام دینے کے لیے میرے پاکٹ منی کا خاتمہ کردیا گیا تھا۔ اب میرے پاس اتنے بھی پیسے نہیں ہوتے تھے کہ میں کوئی ڈھنگ کی اسٹیشنری خرید سکوں! اب مجھے پیسے بچانے کے لیے پیدل ہی سفر کرنا پڑتا تھا کیونکہ سائیکل تو پہلے ہی بیچ دی گئی تھی کہ میں کہیں اس منحوس لڑکے کی برابری نہ کرسکوں!

اب آپ بتائیے! یہ ساری باتیں میری جلن کڑھن کا باعث کیوں نہ بنتیں؟ میرے غم و غصے کی شدت اتنی نہ ہوتی اگر میرے والدین میرے اس جذبات کو مثبت انداز میں درست سمت میں گامزن کرتے مگر وہ تو میرے ان احساسات کو مستقل جھٹلائے جا رہے تھے۔ لمبے عرصے اپنے آپ سے لڑتے لڑتے اب میرے حواس مختل ہوتے جا رہے تھے۔ ذرا ذرا سی بات پر مشتعل ہونا میرا وطیرہ بنتا جارہاتھا۔ نا امیدی اور ما یوسی نے مجھے ذہنی مریض بنا کر رکھ دیا تھا جس کے علاج کے لیے مجھے ماہر نفسیات کے پاس جانا پڑگیا۔

اس دن بھی میں روٹین کے چیک اپ کے لیے اپنے والدین کے ہمراہ کلینک پہنچا تو ہم سب حیران رہ گئے کہ تقریباً تمام نمایاں لڑکے اپنے اپنے والدین کے ہمراہ یہاں موجود تھے۔ ایک عجیب سی صورت حال تھی۔ سب لڑکے ایک ہی سے مرض کی شکایت لے کر موجود تھے اور بیماری میں اضافہ محسوس ہوا جب یہ دیکھا کہ وہ شیطان صفت لڑکا چہکتا ہوا یہاں بھی اپنے والدین کے ساتھ موجود تھا۔

پہلے پہل تو اس کے والد نے ایک لمبی چوڑی تقریر کی جس کالب لباب یہ تھا کہ مجھے آپ کے پاگل بچوں کا کتنا خیال ہے کہ ان کے لیے اتنا شاندار نفسیاتی اسپتال قائم کیا ہے۔ یہ بچے آپ کا سرمایہ ہیں۔ یہ ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند ہوں گے تو ان کا مستقبل بھی روشن ہوگا۔۔۔ وہ اپنے کاموں کا قصیدہ پڑھ رہے تھے اور اس ساری تقریر کے دوران اس کی ماں ایک طنزیہ مسکراہٹ لیے کھڑی تھی اور ہم سب بچوں کے والدین سر جھکائے یہ بھاشن سن رہے تھے جبکہ وہ جابر لڑکا ہر ایک کے پاس جاجا کر چھیڑ رہا تھا۔ کسی کو چیونٹی کاٹ لی تو کسی کا پائوں مسل دیا۔ کچھ تلملا رہے تھے، کچھ نظر انداز کر رہے تھے، کچھ ہنس کر ٹال رہے تھے۔

مجھے اپنے اوپر ضبط کے لیے بہت محنت کرنی پڑرہی تھی مگر میں نے غور کیا تو دیکھا کہ سب والدین اپنے اپنے بچوں کو مضبوطی سے کنٹرول کیے ہوئے تھے کہ کہیں اس شر کے خلاف جوابی حملہ نہ کر بیٹھیں! میں بہت طیش میں تھا جیسے ہی وہ میرے پاس آیا اور میرے گریبان پر ہاتھ ڈالامیں نے لپک کر اسے گرادیا۔ اس کے گرتے ہی جیسے فضا بدل گئی۔ بقیہ تمام لڑکوں کی اکثریت بھی اپنے اپنے والدین کا ہاتھ چھڑا کر اس شیطان پر لپکے۔ اس کے باپ نے اپنی لن ترانی چھوڑ کر غضبناک نظروں سے اپنے محافظوں کی طرف دیکھا جنہوں نے چشم زدن میں اپنے اسلحے کی ضرب سے گتھم گتھا لڑکوں کو زخمی کر ڈالا۔

بقیہ والدین نے سہم کر اپنے اپنے بچوں کو گھسیٹ کر اپنے پیچھے کر دیا۔ اب گارڈ ز میری طرف حملے کی نیت سے بڑ ھے مگر ان کو اس کے باپ نے روکا اور مجھے غلاظت بھری زبان میں لعن و طعن کی۔ میں محسوس کر رہا تھا اب موت قریب ہے لہذا کلمہ پڑھ کر اس کی آنکھوں میں آ نکھیں ڈال کر کھڑا ہوگیا۔ نہ جانے کیا سوچ کر اس نے پینترا بدلا۔ اپنے بیٹے کو چمکارا کہ تم کیوں شرارتی ہو رہے ہو؟ اور پھر مجھے معتوب کرنا شروع کردیا کہ ذرا سی بات پر اتنا کیا غیض و غضب کا شکار ہونا! ایسا رد عمل کیوں؟ اب سارے لوگ اسی کے ہمنوا ہوگئے تھے! اس کے باوجود مجھے چھوڑ دیا گیا! وجہ معافی؟ جی نہیں !اس کے چالاک باپ نے مجھ سمیت تمام لڑکوں کی آ نکھوں میں شعلے لپکتے دیکھ لیے تھے۔ اسی لیے پوری فیملی جان بچا کر بھا گی۔ ان کے جاتے ہی جیسے سب لوگ خواب سے جاگے۔ تمام لڑکوں کا نفرت اورغم و غصے سے برا حال تھا۔ اس مشتعل ہجوم نے کلینک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ڈاکٹرز اور عملہ اپنی جان بچا کر بھا گے۔ اب ہم سب نے دشمن کو زیر کرنے کا گر سیکھ لیا تھا۔

جی ہاں طاقت کا حصول! متحد اور متفق ہو کر دشمن کو قابو کرنا ہوگا! ہم سب کا ڈپریشن دور ہوچکا تھا۔ سارے ظالم ہماری پہنچ سے دور تھے مگر ہمیں معلوم ہوگیا تھا کہ مریض ہم نہیں! علاج کی ضرورت کسی اور کو ہے! چنگاری سے شعلہ بننا کچھ بھی مشکل نہیں بس ہمت اور جذبے کی ضرورت ہے۔۔۔ اب ہم کسی دھمکی میں نہیں آئیں گے۔ ترقی رک جائے گی؟ خوشحالی نہ رہے گی! تو کیا ہوا؟
لوٹ جا عہد نبی ﷺکی سمت رفتار
پھر میری پسماندگی کو ارتقا درکار ہے!
(اس تمثیل میں بچہ امت مسلمہ ہے ۔ باقی کردار خود بخود سمجھ میں آ سکتے ہیں۔)

فیس بک تبصرے

Leave a Reply