محفوظ ترین تہذیب؟

secure-civilization01’’ جی نہیں ! یہ ہر گز فوٹو شاپ یا کیمرہ ٹرک trick نہیں ہے بلکہ یہ ایک اصلی تصویر ہے ۔
ایک بچی جو تین جر من شیفرڈ کتوں کے ساتھ سو رہی ہے جن میں سے ایک اس کے سر ہانے زبان لٹکائے نیم دراز ہے تو باقی دو دائیں بائیں لیٹے ہیں اور بچی کاہاتھ ان دونوں کے لمس کو محسوس کر رہا ہے۔ اس پر پہلی نظر پڑی تو خوف کی ایک لہر دوڑ گئی مگرفوراً ہی ماں (معلوم نہیں کہ biological یا foster?) کا تبصرہ پڑ ھ کر حیرت میں بدل گئی…
’’ دنیا کا محفوظ ترین بچہ ! ـ ‘‘

اس پر فوراً ہی commentsآ ناشروع ہوگئے۔! ایک سر پھرے کا کہنا ہے کہ ’’ مجھے کتوں سے الر جی ہے مگر پھر بھی میں ان ہی کےساتھ سوتا ہوں کہ یہ مجھے چوروں سے بچاتے ہیں ۔۔۔۔۔‘‘ اور پھر چند ہی دنوں میں اسے 70,274 افرادنے like کر ڈالا جبکہ 26,363 نے commentsکیے ۔ تمام تو نہیں پڑھ سکے مگر جتنے بھی پڑ ھے تعریف و توصیف ہی نظر آ ئی۔ ایک کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ یہ کتیّ فرشتوں کی طرح اس کی حفا ظت کر رہے ہیں ۔۔۔۔ مجھے یقین ہے آپ استغفر اللہ پڑھ رہے ہوں گے میری طرح !چونکہ میں اس بچی کی اس طرح کی کئی اور تصاویر دیکھ چکی ہوں اس لئے میری حیرت کالیول آ پ سے ذرا کم ہے!مجھے پہلا شاک اس وقت لگا جب اس کی ایک کتے کے ساتھ ہم آ غوشی کی تصویر دیکھی اور ماں ؟ کی پوسٹ کہ یہ جب بھی تھکی اور پژ مردہ ہو، اسکول سے کسی بات پر دل بر داشتہ ہو کر آ ئے تو اسی طرح اپنے PETکے ساتھ اپنے جذبات share کرتی ہے! ذرا آپ اس کے شاک سے با ہر آئیں اور دوسری تصویر
ملا حظہ کریں !

یہ نہ جا نے کو ن سی منحوس تقریب ہے جس میں ایوارڈ با نٹے جا رہے ہیں اور ان میں ہی gay marriage کی سر خیل کئی جوڑوں کو
ویڈنگ ring پہنا رہی ہے! ایک اور استغفر اللہ!

یہ ایک اور تصویر سری لنکاکی ہے جس میں کتوں کی شادی کی تقریب منعقد کی جارہی ہے۔ اس میں اٹھارہ کتے؍ کتیاں یعنی نو جوڑے رشتہ
ازدواج میں منسلک ہوئے۔ اور یہ ایک روایتی buddist wedding اسٹائل کی تقریب تھی جسے مقامی ٹیلی وژن سے براہ راست دکھا یا گیا ۔ کتوں کے جوڑے سجی ہوئی پولیس جیپ میں اپنے ہنی مون کوروانہ ہوئے۔ مکرّر استغفراللہ! (اس تصویر کو insert کرنے کی ضرورت نہیں کہ یہ آپ گوگل پر خود دیکھ سکتے ہیں !!!)۔

یہ لیجئے ایک اور تصویر 

secure-civilization02
اور ماں نے کتنے فخر اور پیار سے اپ لوڈ کی ہے ۔ اس سے بھی زیادہ حیرت ناک بات وہ پیارے تبصرے ہیں ،وہ لائیک کی بھرمار ہے جو اس تصویر کو ملے ہیں۔۔۔

انسان خصوصاً بچے فطری طور پرجانور سے محبت کرتے ہیں! انسان کا جانور سے کیا رشتہ ہے؟ وہی جو کا ئنات میں موجود دیگر تخلیقا ت سے! چھوٹی کلاسز ہی میں جاندار اور بے جان کا فرق پھر مزید پودوں اور جانوروں کا فرق سائنس کی کلا س میں بتا دیا جا تا ہے اور معاشرتی علوم؍ دینیات ؍ زبان کی مدد سے انسان کی باشعور حیثیت کو سمجھا دیا جا تا ہے۔ لیکن جب انسان کا اپنے رب سے ناطہ کمزور ہوا توماحول ؍ نیچر کے نام پر طاقت حاصل کر نے کی کوشش شروع ہوگئی۔ batman, spiderman, superman اور نہ جانے کیا کیا کردار تخلیق کیے گئے۔ ان کرداروں میں ڈھلتے ہوئے انسان اپنی اشرف تہذیب سے بے گانہ ہوتا چلا گیا۔ اس کی تصدیق میں چند ٹاک شوزکے موضوعات، کچھ خبروں کی سر خی، چند ایک کہانیاں ، دو چار تجزیے اور تبصرے ہی کا فی ہیں ۔ کیا کریں اتنی جگہ نہیں ہے اس مضمون میں اور پھر اصل بات یہ کہ وہ اتنی پا تا ل میں گری ہوئی ہیں کہ انہیں پڑھنا یا دہرانا بھی خلاف ادب ہے!

عزیز قارئین ! خیال تھاکہ صرف تصویر یں دکھا کر بلاگ مکمل کرلیا جا ئے گا الفا ط خرچ کر نے کی کیا ضرورت ہے مگرکچھ بات بنتی نہیں اپنے تبصرے شا مل کیے بغیر! اور شاید سوال عقل کا بھی ہے کہ ان تصاویرسے جواب نہیں ملتا۔

امریکی تھنک ٹینک Rand Corporationنے مسلمانوں کی اپنے لحاظ سے ایک تقسیم کی اور پھر اس کے مطابق حکمت عملی تیار کی جس میں سارا زور سر گر میوں پر ہے ۔ اس کا واضح اور بڑا مقصد مسلمانوں کو بے مقصد تفریح اور بے ہنگم تہواروں میں الجھا نا ہے۔ان میں سے ایک ابھی گزری ہے ۔ جی ہاں سندھ فیسٹیول کے نام پر ! اپنی پانچ ہزار سال پرانی گڑی ہوئی تہذیب کو زندہ کر نے کی کوشش!

ایک علاقے کی تہذیب دوسرے سے مختلف ہوتی ہے ۔ بلکہ درست بات تو یہ ہے کہ جہاں سے نماز قصر شروع ہو وہیں سے زبان اور رہن سہن تبدیل ہو جاتا ہے مگر کیا ممکن ہے کہ انسان درندوں کے درمیان زیادہ محفوظ تصور کرے؟؟ شاید یہ وہی فسادہے جس کا خدشہ فرشتوں نے ظاہر کیا تھا۔ اس تہذیب کا ڈانڈے حیوانات سے ہی جا کر ملتے ہیں جبھی تو ڈارون کی ہمت ہوئی یہ کہنے کی کہ ہم بندر کی اولادہیں!

انہی میں سے ایک ویلنٹائن ہے۔ چند سال پہلے یہ ہدف دیا گیا کہ اسلامی معاشرے میں اس تہوار کو باقاعدہ داخل کر نا ہے ۔ پاکستان میں تقریباتی کلچر ہے لہذا وہاں اس کی خوب آئو بھگت کی گنجائش ہے۔ اور یہ ہی ہوا ۔میڈیا نے اس کو اتنا بڑ ھاوادیا کہ بچے تک اس فحش اور نا زیبا رسم سے واقف ہوگئے جس کی گنجائش مہذب عیسائی معاشرے تک میں نہیں ہے ہاں! لچے لفنگے اس کو خوب مناتے ہیں ۔نئی نئی رسومات ایجاد کی گئیں۔ کارپوریٹ کلچر کو خوب بونس ملتے گئے۔

مجھے اچھی طرح یا د ہے انگلش کامک پڑ ھتے ہوئے جب اس تہوار کا ذکر آ یا تو مجھے ڈ کشنری دیکھنی پڑی تھی کہ کوئی بھی فرد اس رسم کو نہیں
جانتا تھا اور کچھ ہی سال پرانی بات ہے جب میری دوست نے اپنے گھر کا م کر نے والی بچی کا ذکر کیا جس نے اپنی مالکن سے اس کے بارے میں پو چھا اور ان کی لا علمی پر بریفنگ دی اور اپنی دوست کوفون کر نے کی اجازت مانگی۔ دوست تو فق ہوگئی تھیں اور لاحول پڑھنے لگیں۔ آپ بھی کیا صرف استغفراللہ پڑھتے رہ جائیں گے یا ان نام نہاد مہذب اور مضبوط تہذیبوں کے آ گے بند باندھیں گے جو ہم پر مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے!

تصویر سے اس تحریر کاآ غاز ہوا تھااور ایک واقعے پر اختتام کر تی ہوں ۔ چند سال پہلے ایک خاتون اپنی بھانجی کو حج کی مبارکباد دینے کو گئیں۔ حسب روایت انہوں نے مٹھائی اور پھول لیے۔ ان کو بڑی زحمت ہوئی کہ ہر دو جگہ بے انتہا رش! انہوں نے اس کا ذکر اپنے میزبانوں سے کیا کہ گلاب کے پھولوں کوتو گویا آگ لگ گئی ہے! تو وہ مسکرا کر رہ گئے اور جب کیک کاڈبہّ کھولا گیا تو اس پر happy valentine لکھا تھ ۔ بے چاری بوڑھی خالہ جان کو کیا پتہ کہ مضبوط ترین تہذیب کو کس طرح حیوان کے حوالے کرنے کی سازش ہو رہی ہے!!!

فیس بک تبصرے

محفوظ ترین تہذیب؟“ پر 8 تبصرے

  1. اعلی۔۔۔۔
    میں غصے میں تحریر پڑھنے گیا تھا، کہ کتوں کی “برائی” لکھی ہو گی۔۔۔
    اعلی لکھا، بہت خوب

  2. بہت خوب،
    زبردست تحریر ہے۔۔۔

  3. thank you!

  4. Pics or Valentine ko tehzeeb se acha milaya…..a worth read article

  5. very nice and true ,its the real pictuer of west unhuman civilization

  6. بیت نکتے کی بات پر لکھا ہے، لیکن سوچنے کے لئے عقل چاہیئے اور شعور چاہیئے جو کہ خام خام نظر آتا ہے۔

Leave a Reply