میرے راہنماﷺآپ کا شکریہ۔۔۔

muhammadربیع الاوّل کی آمد کے ساتھ ہی ہر طرف درودوسلام کی بہار آجاتی ہے، کہیں سیرت کے جلسے منعقد ہو تے ہیں تو کہیں محافلِ نعت کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اور پھر ربیع الاوّل کے رخصت ہونے کے ساتھ ہی یہ ساری باتیں ہوامیں تحلیل ہوجاتی ہیں۔ سیرتِ رسولﷺ کے جلسے ہوں ، نعت رسولﷺکی پر نور محافل ہوں یا سیرت رسولﷺکانفرسوں کا انعقاد ان سب کی اہمیّت اپنی جگہ مسلّم ہے لیکن سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ محض ایک مہینہ یا کچھ دنوں کیلئے سیرت رسول ﷺکی محافلوں کا انعقاد کر کے، نعت رسول ﷺکی محافل سجا کے یا عشقِ رسولﷺکے نعرے لگا کر جناب نبی کریمﷺکی قربانیوں اور محنتوں کا حق ادا کر سکتے ہیں۔ انﷺکی قربانیوں کو یاد کیجئے ،آج ہم 1500 سال بعد ہزاروں میل دور مسلمان ہیں تو اللہ کے فضل کے بعد آپﷺکی قربانیوں کی نتیجے میں ہیں۔ ذراچشمِ تصوّر میں وہ منظر لائیے کہ لوگوں کو دعوت وتبلیغ سے دن بھر کے تھکے ہارے جناب نبی اکرمﷺگھر لوٹتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے ایک قافلہ مکہ میں آکر ٹھہرا ہے، تو اسی وقت پھر اپنے گھر سے نکل کھڑے ہوتے ہیں کہ کہیں رات میں وہ قافلہ کہیں آگے کو کوچ نہ کر جائے اور دینِ اسلام کی دعوت سے محروم نہ رہ جائے، ذرا سوچئے ممکن ہے ہم تک اسلام کی یہ دعوت اسی قافلے کے کسی فرد کے ذریعے پہنچی ہو جس کو آپﷺنے دن بھر کی تھکان کے باوجود جا کر دعوت دی،اپنے اندر اس احساس کو پیدا کیجئے کہ نبی اکرم ﷺنے جتنی قربانیاں دیں ان کا ڈائریکٹ احسان ہم پر ہے، اب اس احسان کے بدلے میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟؟؟؟

حضورﷺسے محبت ہمارے ایمان کا جز ہے اور محبت کی منجملہ علامات میں سے یہ ہے کہ تمام معاملات میں حضورﷺ کی اتباع کی جائے، قرآن کریم سے محبت ، تلاوت ،اور اس کا فہم حاصل کیا جائے، آپ ﷺکی احادیث کا مطالعہ کیا جائے، آپﷺ کی سنت اور طریقہ پر عمل کیا جائے، آپ ﷺکی سیرت اور شمائل کو اپنایا جائے، آپﷺسے ملنے کا اشتیاق ہو، آپ ﷺکا ذکر خیر کثرت سے کیا جائے، آپﷺپر درود پڑھا جائے آپﷺکو تو جو اجر ملنا ہے وہ تو ملنے والا ہے ہی لیکن اگر ہم ان ﷺپر درود وسلام بھیجتے ہیں تو اس کا ثواب بھی ہمارے ہی لئے ہے، محمدﷺنے ہمیں جو درود سکھایا ہے یہ ہمارے لئے اعزاز ہے کہ ہم ان کیلئے دعا کریں اللہ کے رسولﷺتو افضل الانبیاء اور سب سے بہترین انسان ہیں۔

 

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو سیرت رسولﷺکے مطابق ڈھالیں اورسیرت رسولﷺسے عملی وابستگی اختیار کریں،حُبِّ رسولﷺکا تقاضا یقیناً یہ بھی ہے کہ انسان کی شکل و صورت اور وضع قطع ایسی ہو جیسی آقائے دو جہاںﷺکی تھی لیکن سچ یہ ہے کہ اس سے زیادہ ضروری بات اس اندازِ فکر اور لائحہ عمل کو اپنا لینا ہے جسے اسلام کا فلسفہ زندگی کہا جاتا ہے کیونکہ قرآن کی رو سے انسان کا اصل لباس اس کا تقویٰ ہے۔ یا کم از کم یہ بات تو بہرحال ضروری ٹھہرتی ہے کہ جو شخص وضع قطع میں مسلمان ہو اس کے کردار اور سیرت میں اسلام کے اصولوں کی جھلک اور چمک بھی ضرور نظر آنی چاہئے۔

 

ان مقدس لوگوں کے مقابلے میں جو ہر لحاظ سے خلافتِ ارضی کے مستحق تھے ہمارا حال کیا ہے؟ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺکے ہر حکم کو ڈھٹائی سے توڑتے ہیں اور قریب قریب ہر معاملے میں بغاوت کا علم بلند کیے ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں انتہائی شرمناک صورت یہ ہے کہ عمل کے میدان میں ان حضرات کا حال بھی قوم کے جہلا سے مختلف نہیں جو حُبِّ رسولﷺکے دعویدار اور اسلام کو اپنا اوڑھنا بچھونا ثابت کرنے پر اصرار کرنے والے ہیں۔اور آج بحیثیّت ملّت ہمارا حال پروفیسر عنایت علی خان کے ان اشعار کے مصداق ہے،

 

جو جمالِ روئے حیات تھا، جو دلیل راہِ نجات تھا

اسی رہبر کے نقوش پا کو مسافروں نے مٹا دیا

یہ میری عقیدت بے بسر ،یہ میری ریاضت بے ہنر

مجھے میرے دعویٰ عشق نے نہ صنم دیا نہ خدا دیا

تیرے حسن خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی

میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے در و بام کو تو سجا دیا

میں تیرے مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا

تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا

تیرا نقش پا تھا جو راہنما تو غبارِ راہ تھی کہکشاں

اسے کھو دیا تو زمانے بھر نے ہمیں نظر سے گرا دیا

میرے راہنما تیرا شکریہ کروں کس زباں سے بھلا ادا

میری زندگی کی اندھیری شب میں چراغِ فکر جلا دیا

تیرے ثور و بدر کے باب کے میں ورق الٹ کے گزر گیا

مجھے صرف تیری حکایتوں کی روایتوں نے مزا دیا

کبھی اے عنایتِ کم نظر !تیرے دل میں یہ بھی کسک ہوئی

جو تبسم رخِ زیست تھا اسے تیرے غم نے رلا دیا

فیس بک تبصرے

میرے راہنماﷺآپ کا شکریہ۔۔۔“ پر 2 تبصرے

  1. true!we need to obey!

  2. ijtahad ummat k liy apis mein tafarka bazi ko chor kar mil jul kar dunya qufar ka mukabla karna chahiy yahi seerat ka paigham hai

Leave a Reply