مسلم معاشروں میں خواتین کا کردار مواقع اور چیلنجز!!

role-of-muslim-womenیہ اسلام آباد کی فیصل مسجد ہے جہاں انٹرنیشنل مسلم وومن یونین کے تحت دوروزہ بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہورہی ہے۔ یہاں دنیا کے ۲۰ممالک سے آئی ہوئی مسلمان خواتین کے۵۰وفود نے شرکت کی۔ مجھے بھی اس کانفرنس میںشرکت کا موقع ملا۔ جس طرح مسلمان خود کو حج کے موقع پر رنگ، نسل اور ملک وقوم سے بالاتر ہوکر خود کو ایک عالمگیر برادری کا رکن محسوس کرتے ہیں یہاں بھی کم وبیش احساسات کی وہی دنیا تھی۔مختلف رنگ،نسل،زبان اور ملکوں سے تعلق رکھنے والی خواتین جن میں یوگنڈا، یمن،ترکی، ایران،سوڈان،سری لنکا،ملیشیا،مقبوضہ کشمیر،شام۔

 

بظاہر کوئی بھی یگانگت نہ تھی لیکن ایک رشتہ نے انہیں ایک زنجیر میں پرودیاتھا اور وہ تھا’’تیرا میرا رشتہ کیا لاالہ الا اللہ‘‘ یہ ایک رشتہ درمیان سے اجنبی ہونے کے ہر احساس کو ختم کردیتا تھا۔بلکہ عالمگیر یت کے تصور سے انسانی وجود زماں ومکاں کی قید سے ماورا خود ایک احساس بن جاتا ہے۔

 

وہ تقرریں جو انگریزی میں تھیں، فارسی میں اور عربی میں ۔لیکن وہ لب ولہجے، وہ تاثرات، وہ ادائیگی ء الفاظ جو ایک مسلمان عورت کی نہ صرف بیداری بلکہ اسکے پرعزم ہونے اور آئندہ کے چیلنجز کیلئے اسکی بھرپور تیاری کا عنوان تھے۔ مسلم دنیا کی یہ نمائندہ خواتین۔ ان میں سے ہر ایک۔ خود اپنی ذات اور مشن کے حوالے سے ایک چراغ تھی۔جن سے ان کے سماج میں نہ صرف ۔۔۔پھیل رہی ہے بلکہ بھٹکے ہوئے قافلے راہ ہدایت پارہے ہیں یہ سب جدید تعلیمات یافتہ، ڈاکٹرز،اپنے شعبوں میں تخصص حاصل کئے ہوئے ، دین دار اور باحجاب، جو نہ صرف ایک مسلمان عورت کے طور پر اپنے خانگی فرائض کی طرف سے چوکنا ہیں بلکہ زندگی کے مختلف میدانوں میں اپنی کامیابیوں کا لوہا بھی منوارہی ہیں۔ جنہیں مردوں کی ’’قوامیت‘‘ پر کسی بحث و مباحثے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ اسی ’’قوامیت‘‘ کو اپنا تحفظ سمجھتے ہوئے وہ معاشرے کے شر سے بھی نبرد آزما ہیں۔ اور پیغمبری مشن کیلئے سربکف بھی کھڑی ہیں اور صف بہ صف بھی۔

 

انسان ہونے کے ناطے تو مرد اور عورت دونوں مساوی ہیں ،تمدن کی تعمیر اورتہذیب کی تشکیل اور انسانیت کی خدمت میں دونوں برابر شریک ہیں ۔ضرورت اس بات کی تھی کہ ’’مساوات مرد وزن‘‘ کے کھوکھلے نعرے کے بجائے تمدن کی فلاح کیلئے دونوں کی دماغی تربیت اورعقلی وفکری نشونماکے مواقع بہم پہنچائے جاتے کیونکہ ہر تمدن کا فرض ہے کہ سماج کا یہ نصف حصہ اپنی فطری استعداد اور صلاحیتوں کے مطابق سماج کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر کردار ادا کرے عزت نفس کا بھی بہترین شہری صفات کے فروغ کا باعث بن سکتا ہے۔

 

شرق وغرب سے آئی ہوئی یہ مسلم اسکالرز جو اپنے سماج کی جانی پہچانی شخصیات ہیں اپنی خدمات کے حوالے سے نہ صرف ان کا عزم بلکہ انکی سوچ بھی یکساں اور پختہ تھی۔ ان سب کی تقریروں کا لب لباب یہی تھا کہ مساوات کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ عورت اور مرد کا دائرہ عمل ایک کردیا جائے دونوں پر زندگی کے تمام شعبوں میں یکساں ذمہ داریاں عائد کردی جائیں۔عورتوں کے اوپر خانگی ذمہ داریوں کے ساتھ تمدنی بوجھ مردوں کے برابر ڈال دینا ہرگز ’’مساوات‘‘کے ذیل میں نہیں آتا۔ عورت کا ارتقاء اسکی فطری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں پنہاں ہے۔ اگر خاندان کو نظر انداز کرکے تمدن کی خدمت کی جائیگی تو یہ نہ صرف خاندان کا بلکہ معاشرے کا بھی انحطاط ہوگا۔’’ماں‘‘ کی خدمات اور مرتبے سے انحراف کرنے والے معاشرے کبھی ترقی نہیں پاسکتے۔

 

یہاں امریکہ، انگلستان، ترکی،یوگنڈا، ایران،سوڈان وغیرہ ہر ملک سے آئی ہوئی مقرر خواتین ایک ہی بات کہ رہی تھیں کہ مسلمان عورتوں کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ہمارے مذہب اسلام نے جو عزت دی ہے غیر مسلم معاشرے اسکا تصور بھی نہیں کرسکتے یہاں ہر حیثیت میں عورتوں کی عزت کی جاتی ہے چاہے ماں ہو یا بیوی،بیٹی یا بہن۔ جب ہم مغرب میں عورت کی بے بسی دیکھتی ہیں تو اسلام میں اسکی حیثیت پر رشک کرتی ہیں۔ IMWUانٹرنیشنل مسلم ویمن یونین کے پلیٹ فارم پر مسلم دنیا کی یہ نمائندہ خواتین اپنے خلاف ہونے والی سازشوں سے نہ صرف آگاہ تھیں بلکہ ان چیلنجوں سے نمٹنے کا داعیہ ان میں بدرجہ ات م دکھائی دیتا تھا۔ آج امریکہ نیو ورلڈ آرڈر کے تحت مغربی تہذیب کی بالادستی کیلئے عورت کی ترقی،امن اور مساوات کے جن نعروں کو ہتھیار کے طورپر استعمال کررہا ہے چاہے مسلمان ممالک کی حکومتوں نے CEDAWکے عالمی معاہدے پر دستخط کردیئے ہوں کیونکہ عالمی مالیاتی اداروں کی امداد وہ اپنے ایجنڈوں کے نفاذ کے ساتھ مشروط کرتے ہیں۔ لیکن یہ باشعور مسلم امہ کی نمائندہ تین واشگاف لفظوں میں کہ رہی ہیں کہ وہ اس نام نہاد عالمگیریت کا حصہ بننے پر تیار نہیں۔ اور وہ مسائل کو مغرب کے پیش کردہ تناظر میں دیکھنے پر آمادہ نہیں۔دنیا کے بیشتر ممالک میں عورتوں کے حقوق کی علمبردار این جی ای اوز جس استعماری ایجنڈے کیلئے دنیا بھر میں سرگرم عمل ہیں یہ خواتین اپنے اپنے سماج میں انکے خلاف آہنی دیوار بنی ہوئی ہیں۔وہ انکے پروگرام اور لائحہ عمل کی جزئیات کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ عورتوں کا استحصال جو اکثر مسلم معاشروں میں بھی کیا جاتا ہے اسکا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اور عورت کی ترقی اور کامیابی کیلئے اگر اسے مرد بنادیا جائے گا ذمہ داریوں کے حوالے سے تو یہ نہ اسکی ذات کیلئے مفید ہوگا نہ یہ کوئی تمدنی خدمت ہوگی۔ اسلام نے عورت کو جو وسیع تمدنی اور معاشی حقوق اور عزت وشرف عطا کیا ہے اس پلیٹ فارم پر اسکا بارہا تذکرہ ہوتا رہا۔ ایک سوال جو فیصل مسجد کے اس آڈیٹوریم میں خاصی دیر تک گونجتا رہا وہ یہ تھا کہ ’’ہم مسلمان عورتوں کو ایک بنیادی فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم مغربی معاشرت اور اسکے زیر اثر پروان چڑھنے والے حقوقِ نسواں کی عالمی تحریکوں کا حصہ بننا چاہتی ہیں یا اسلام کے عطا کردہ حقوق کے حصول کیلئے تحریک بپا کرنا ہے؟‘‘اس کیلئے ضروری ہوگا کہ ہم ان نظریات ،تخیلات سے اپنے دماغوں کو خالی کرلیں جو ہم نے مغرب سے مستعار لے رکھے ہیں۔ ہمیں اسلامی تصورات کو غیر اسلامی تصورات میں خلط ملط ہونے سے بچانا ہوگا۔ اور اپنے معاشروں اور آئندہ نسلوں کو بگاڑ سے بچانے کیلئے عورتوں اور مردوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

 

کانفرنس جو رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، قبال انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگIMWUکے تعاون سے منعقد کی گئی۔ کانفرنس کے اختتام پرآئی ایم ڈبلیو یو کی چیئر پرسن ڈاکٹر کوثر فردوس نے سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک کی حکومتیں خواتین اور خاندانی نظام کے تحفظ کیلئے خصوصی وزارتیں قائم کریں تاکہ خاندانی نظام کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ خواتین کو ملازمت میں انکی ضروریات کے حساب سے لچکدار رویہ اپنایا جائے، خواتین کی اعلیٰ تعلیم کیلئے جداگانہ ادارے قائم کئے جائیں۔ خاندانی نظام کے حوالے سے نصاب میں خصوصی مضامین شامل کئے جائیں،حکومت ،سول سوسائٹی اور مسلمان اسکالر ز خواتین کے تحفظ کیلئے خواتین کا نہ صرف اطلاق کرائیں بلکہ امتیازی روایات کے خاتمے میں بھی اپنا رول ادا کریں ۔جنگ زدہ علاقوں کشمیر،فلسطین،شام،افغانستان، مصر ،عراق وغیرہ میں خواتین کو خصوصی مدد اور تحفظ فراہم کیا جائے۔ (واضح رہے کہ ان متاثرہ کی خواتین کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے بار بار آبدیدہ ہوجاتی تھیں۔اور اس وقت مسلم امہ کی بے بسی اور استعماری سازشوں پر سب کی فکر مندی یکساں تھی۔ لیکن مستقبل کے امکانات سے کوئی بھی مایوس نہیں تھا۔ ان سب کو یقین تھا کہ شر سے خیر برآمد ہونے والا ہے۔ اصل امتحان ہمارے نظریات کی پختگی اور ہمارے ایمان کا ہے۔ مسلمانوں کا ماضی بھی روشن تھا اور مستقبل بھی انشااللہ روشن ہے۔ اور مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ میں مسلمان عورت ایک بھرپور کردار ادا کرنے کیلئے نہ صرف خود تیار ہے بلکہ اپنے گھر کی محافظت اور نگرانی کرتے ہوئے اپنی آئندہ نسلوں کو بھی اس کیلئے تیار کررہی ہے۔

فیس بک تبصرے

مسلم معاشروں میں خواتین کا کردار مواقع اور چیلنجز!!“ پر 2 تبصرے

  1. دلچسپ احوال لکھا- ایسا لگا کہ تقریب میں شمولیت ہوگئی-

  2. an excellent effort!

Leave a Reply