برما کے مظلوم مسلمان اور بدّھوں کی سفاکی

برما کے بودھسٹوں کے ایک معزز اور با اثر خاندان کی دو بچیوں نے اپنی آزاد مرضی(by choice) سے اسلام کیا قبول کر لیاکہ اس پر برما میں مسلمانوں پر ظلم کے وہ پہاڑ توڑے جا رہے ہیں کہ انسانیت سر پیٹ کر رہ گئی، اس پر بدھ خاندان اور بودھوں کی طرف سے انہیں اسلام سے پھیرکر مرتد بنانے کی بہت کوشش کی گئی۔ مگر ان بچیوں نے کسی دبائو اور لالچ کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اب ہم اس راستے کو نہیں چھوڑ سکتی ہیں چاہے اس میں ہماری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔جب ان بچیوں نے دوبارہ بدھ مت اختیار کرنے سے واضح اور دوٹوک انداز میں انکار کر دیا تو اس پر بودھوں نے ایک پلان کے تحت ان مسلمان بچیوں اور عام مسلمانوں کے قتل عام کا منصوبہ تشکیل دیا ۔

 

کچھ عرصہ ہی بعدپلان کے تحت ان بچیوں کو اغوا کرکے انتہائی بے دردی اور ظالمانہ طریقے سے شہید کیا گیا اور اس کا الزام مسلمانوں پر لگا دیا گیاکہ انہوں نے دو بدھسٹ لڑکیوں کو اغوا کرکے جنسی تشدد کے بعد قتل کر دیاہے اور نتیجہ یہ نکلا کہ پولیس نے اس الزام کے تحت سینکڑوں مسلمانوں کو گرفتار کر لیا۔اس واقعہ کے بعد بودھوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کو بڑھاوا دینے کے لئے ایک اور ناٹک کھیلا گیا۔ صوبہ ارکان کے تنگوگ شہر کی جامع مسجد میں ہونے والے اجتماع میں شرکت کے لئے آنے والوں کی بس کو بودھ دہشت گرد تنظیم ’’ماگ‘‘کے نوجوانوں نے روکا ،جس میں ۴۰ کے لگ بھگ لوگ سوار تھے ۔بس میں سوار علما کو پہلے اتار لیا گیا۔انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر انتہائی ظالمانہ طریقے سے انہیں شہید کر دیاگیا۔اس کے بعد ان کے سر اور داڑھیوں کے بال مونڈ دیے اور سرخ لباس (بدھ لباس ) پہنا کر ان کی لاشوں کو پورے ملک میں گھمایا پھرایاگیا اور مشہور کیا گیا کہ مسلمانوں نے ان بودھ پیشوائوں کو قتل کر دیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورے اراکان (برما) میں اور دیگر صوبوں میں بودھوں نے پولیس اور فوج کے تعاون سے مسلمانوں کا وہ قتل عام کیا کہ الاماں و الحفیظ ۔اس سے پہلے اراکان میں مسلمانوں کے ایک بڑے مدرسہ (حمایۃ الاسلام) کو نشانہ بنایا گیا۔۲۸ طلبا اور ۴ ؍اساتذہ کو شہید کر دیا گیااور مدرسے کو آگ لگا دی گئی ۔بچے بوڑھے مرد و خواتین اورنوجوان جو بھی سامنے آیااس کو قتل کر دیا گیا۔مسلمانوں کے گھر اور کھیت کھلیان جلا دیے گئے اور کارو بار تباہ کر دیے گئے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق اس قتل عام میں ۴۵ ہزار سے زائد لوگ مارے گئے، ۴ہزار زندہ جلا دیے گئے ، ۵ہزار سے زائد خواتین جنسی درندگی کا نشانہ بنیں، ۱۰ ہزار مسلمان زندہ غائب کر دیے گئے ۔۳۵ہزار سے زائد گھر جلا دیے گئے۔۲لاکھ سے زائد مسلمان بے گھر ہو گئے اور یہ سلسلہ ہے کہ رُکنے میں نہیں آ رہا۔

 

حال ہی میں جلائے گئے مسلمانوں کے مکانات۔

حال ہی میں جلائے گئے مسلمانوں کے مکانات۔

burma02burma03

اتنا بڑا المیہ رونما ہوا ، مسلمانوں کا خون بہا ،لیکن اس پر عالمی برادری کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ عالمی برادری کا دوہرا معیار ،تضاد اور منافقت سے بھرپور چہرہ دنیا کے سامنے آیا۔ امریکہ،یورپ اورانسانی حقوق کی علمبردار تنظیمات اورUNO کی خاموشی افسوسناک ہی نہیںبلکہ مجرمانہ رہی۔انہیں اس واقعے کی مذمت کرنے کی توفیق تک نصیب نہیں ہوئی۔ بلی کتے اور چوہے کے مرنے پر واویلا کرنے والے اس موقع پر خاموش نظر آئے۔ مسلمانوں کا خون بہتا رہا ان کے جذبات اور انسانی حقوق پر ذرا گراں نہیں گزرا۔۵ہزار مسلمان خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک پرمغرب کی خاموشی مجرمانہ اور افسوسناک رہی۔مغرب کی خاموشی اس کے دوہرے معیار کی غماز ہے مغرب کے دوہرے معیارات نے ان کے چہرے سے نقاب اتارا اور ان کے دوغلے پن کا پردہ چاک ہوا ہے۔

 

دس صدیوں سے برما میں آباد مسلمان اپنی زمین پر اجنبی بنائے جا رہے ہیں۔بودھ جو بہت بعدمیں یہاں پر آئے ہیں ،آئے دن مالک بنائے جا رہے ہیں۔مسلمانوں کو تجارت سے بے دخل کیا گیا۔پارلیمنٹ میں جانے کے راستے بند کیے گئے، نسلی تعصب کی بنا پر شہریت کا قانون پاس ہوا، آج برما میں مسلمان خانہ بدوش تصور کیے جاتے ہیں ۔ شہری حقوق سے محروم برما کے مسلمان جنگلوں، بیابانوں میں رہنے پر مجبور ہیں وہ اپنا دفاع کر سکتے ہیں اور نہ حفاظت، خیموں میں رہتے ہیں مگر اس کا بھی ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہیں ۔فوجی جب چاہیں ان کے خیمے اٹھا کر لے جائیں ،جھگیاں گرا دیں ،انہیںان کی آباد کی ہوئی زمینوں سے بے دخل کر دیں ، مسلمان ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل ہونا چاہیں تو نہیں ہو سکتے۔نہ اپنا سرمایہ منتقل کر سکتے ہیں حتی کہ اپنا مریض ہسپتال لے جانا چاہیں تو اس کے لئے بھی فوج سے پیشگی اجازت لینا ہوتی ہے، جہاں جہاں نئے فوجی مرکزاور بودھ مرکز (عبادت خانے) بنتے ہیں ان کے اخراجات مسلمانوں سے پورے کیے جاتے ہیں۔ گھر کا ہر فرد فوج یا افسروں کے لئے لکڑیاں کاٹنے پر مامور ہوتا ہے فوج تلاشی کے نام پر جس کو چاہے اٹھا کرلے جائے کسی کی مجال نہیں کہ وہ بول سکے۔ خواتین کوبھی اٹھا کر لے جایا جاتا ہے مگر سوائے خاموشی کے ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا اور نہ کہیں کوئی شنوائی۔بچوں کے لئے تعلیم اور بڑوں کے لئے روزگار اور سرکاری ملازمتوں کا حصول ناممکن ہے ۔مسلمان شادی کرنا چاہیں تو اس کے لئے پہلے اجازت درکار ہوتی ہے۔اور اجازت نامہ حاصل کرنا پڑتا ہے جو بہت مشکل اور پیچیدہ مسئلہ ہے ۔ شادی ہو جائے توگاڑنٹی دینا ہوتی ہے کہ بچے دو سے زیادہ پیدا نہیں کریں گے۔

 

برما کے مسئلے پر اہل مغرب کی خاموشی تو سمجھ میں آتی ہے مگر مسلمان حکمرانوں کی خاموشی کی کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی۔مسلمان حکمرانوں کی خاموشی کو شرمناک ہی قرار دیا جا سکتا ہے، OICکا کردار بھی ٹک ٹک دیدم نہ کشیدم والا نظر آتا ہے۔اس کے سربراہ کمال الدین او غلو کی جانب سے صرف امداد کی اپیل سامنے آئی ہے ، اراکان کے قریب ترین ہمسایہ ملک بنگلہ دیش کا کردار بھی ہمسایوں والا نہیں رہا۔ حالانکہ بنگلہ دیش اسلامی ملک کہلاتا ہے۔

 

برما کے صدر تین سین ہوں یا سیاسی لیڈر آنگ سان سوچی، دونوں کا کردار قابل تعریف نہیں رہا۔تین سین کا کہنا ہے کہ ’’اراکان کے روہنگیائی مسلمان غیر قانونی خانہ بدوش ہیں، ملک میں امن کے لئے ان کو ملک سے بھگا دینا چاہئے ۔ یہ کسی اور ملک کے شہری بن جائیں یا برما کے باہر کسی ریفیوجی کیمپ میں منتقل ہو جائیں‘‘ ملک کے صدر کا یہ بیان اپنے عوام کے بارے میں کس قدر بغض اور کینے سے بھر ا ہواہے پڑھنے کے بعد بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔اسی طرح آنگ سان سوچی سے جب سوال کیا گیا کہ کیا آپ اراکان کے مسلمانوں کو برما کا شہری سمجھتی ہیں؟ تو اس کا جواب تھا کہ مَیں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ کتنی سادگی اور معصومیت اور لا تعلقی ہے اس جواب میں۔ یہ اس خاتون کا جواب ہے جس کو مغرب نے نوبل انعام دے رکھا ہے اور مغرب جسے امن کی سفیر کہتے نہیں تھکتا۔اسی طرح بودھ مذہبی پیشوائوں نے اپنے ایک مشترکہ میمورنڈم میں کہا کہ روہنگیا کے مسلمانوں کا بائیکاٹ کیا جائے اور ضروریات زندگی ان تک پہنچنے نہ دی جائیں۔عدم تشدد کے علمبرداروں کی سنگدلی اور تنگدلی کا یہ نمونہ عبرت ناک بھی ہے اور شرمناک بھی۔

 

برما کے مسئلہ پر میڈیا کا کردار بھی شاندار نہیں رہا۔ برما کا مسئلہ میڈیا کی توجہ چاہتا ہے ۔ میڈیا نے اس حقیقی انسانی المیے کو قابل توجہ نہیں جانا جو نہایت افسوسناک ہے، اسی طرح انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو اس عظیم انسانی المیے کو روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا لیکن ان اداروں نے متعصبانہ پن کا مظاہرہ کیا۔جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان کے خبث باطن کو نمایاں کرنے اور ان کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ مسلمانوں کو مغرب سے بیزار کرنے اور اپنے قدموں پر کھڑا ہونے اور اتحاد و اتفاق اختیار کرنے کی نوید بن گیاِ ہے۔

فیس بک تبصرے

برما کے مظلوم مسلمان اور بدّھوں کی سفاکی“ پر 2 تبصرے

  1. میں نے اپنے طور پر بودھوں کی انتہا پسندی کی وجوہات جاننے کی کوشش مندرجہ ذیل تحریر میں کی ہے۔

    طفل مکتب بلاگ: http://goo.gl/ACwgDD

  2. asaamo el kom.yeh jo berma main muslimano se howa bilkul galat howa.is ki na to islam ijazet deta hi na koi or mezahb. leken is main muslimano ka bhi kasoor hi.who is ley keh pakistan main hindo minorty ke sath kea ho reha hi.un ke bachino ko zaber dasti musliman benaya gata hi. chirstan logno ke sath kea ho reha hi un ki ebadet gaha jali jati hain.or ahmadino ke sath kea ho reha hi. who apney app ko mislman kehtey hain. nhi app log kehty ho nhi app kafir ho.who kalma nhi perh sektey. who koi islami shair nhi istmal ker sektey. ager essa krain gey to un ko jail main dall dea jata hi

Leave a Reply