دھماکہ دھماکہ ہے!

لائٹ کو گئے سات گھنٹے ہو چکے ہیں۔ عاجز آ کر میں نے موم بتی کی روشنی میںلیپ ٹاپ کھول لیا۔کام تو کر نا ہی ہے !ups چارج نہ ہونے کے با عث گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔ سامنے پڑوس میں بچے انٹر کے امتحانات میں مصروف ہیں ِ، بلکہ پورے شہر اور ملک میں امتحان کا سیزن چل رہا ہے،ان حالات میں بجلی کا نہ ہونا ایک امتحان سے کم نہیں!

 

مجھے اپنی پڑوسن یاد آ گئی۔ کل اسے دیکھا تو تھکاوٹ اور بیماری کا تاثر ابھرا۔ استفسارپر بولی ’’رات کو لائٹ جس وقت جاتی ہے وہی میرے سونے کا وقت ہوتا ہے۔نیند تو خیر پھر بھی آہی جائے مگر پڑوسی نے جنریٹر بالکل میری کھڑ کی کے سامنے لگایا ہوا ہے ۔اتنا شور کر تا ہےکہ سونا نا ممکن ہو جاتا ہے۔وہ خود تودروازہ بند کر کے پنکھا چلا کر سوجاتے ہیں اور ہم کر وٹیں بدلتے رہ جاتے ہیں ‘‘۔
پڑوسیوں کے حقوق کو کس کس طرح پامال کیا جارہا ہے اور وہ بھی ایک ایسے گھرانے میں جو سال میں دوکم از کم دو مرتبہ شاندار طریقے سے جشن میلاد اور درود کی محافل کرتا ہو! سوالیہ نشان ہے مگر اس اخلاقی گراوٹ پر بات کرناکسی اور موضوع کے تحت ہوگا ۔اس وقت تو بجلی کے۔ بحران پر گفتگو کر نا ہے جو immediate مسئلہ ہے!مگر بات اصل یہ ہے کہ اس مادیت نے ہماری اخلاقیات کو بری طرح متائثر کیا ہے۔

 

معزز قارئین ! ہم نے یہاں تک لکھا تھا کہ لیپ ٹاپ بھی جوا ب دے گیا! اب ہمارے پاس سونے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں تھا۔ کئی گھنٹے گزر گئے مگر لائٹ کو نہ آنا تھا نہ آ ئی۔ صبح کے وقت جب دیدار نصیب ہوا تو اس ایمرجنسی سے نمٹنے میں بہت وقت لگا جو بارہ گھنٹے بجلی نہ ہونے سے گھر خصوصا کچن میں در آ ئی تھی۔ پانی بھرنے سے لے کر تمام چیزیں چارج کر نا!(جدید دور کی سہولیات پر تو سب خوش ہوتے ہیں مگر یہ ہماری زندگی کے کتنے قیمتی لمحات چرالیتی ہیں!  کاش اس پر بھی غور ہو!) ان سب سے نمٹتے ہو ئے جب اس نا مکمل بلاگ کی طرف متوجہ ہوئے تو بہت جلد معمول کی لوڈ شیڈنگ کاوقت ہوگیا۔شکر تو یہ ہے کہ آج سے نار مل اوقات کی لوڈ شیڈنگ ہوگی! (نہ جانے کیوں ہمیں وہ واقعہ یاد آ رہا ہے جب بادشاہ نے لوگو ں نے رعایا کو صبح شام جوتے لگانے کا حکم دیا تو لوگ اس با ت پرچلا اٹھے۔ احتجاج ؟ ہاں مگر اس بات پرکہ جوتے لگانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو تاکہ جوتے کھانے میں انتظار نہ کر ناپڑے!!! غلامی میں اسی طرح ترجیحات پست ہو کر رہ جا تی ہیں)۔

 

آپ سوچ رہے ہوں گے ہمارا عنوان تو دھماکے کے بارے میں ہے کہ آج یوم تکبیر ہے اور پھر اس کا ذکر کیوں نہیں ؟بالکل ٹھیک بات ہے مگر اس بلاگ کی بر وقت تکمیل میں جس طرح بجلی رکاوٹ بنی ہمارا موضوع خود بخود تبدیل ہو گیا۔ مگر پھر بھی دونوں میں گہرا تعلق ہے۔ کیسے؟؟ آج سے ٹھیک پندرہ سال پہلے جب انڈیا کے۱۱؍مئی کے جواب میں پاکستان نے دھماکہ کیا تو پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور وہ بے چینی ہوا ہو گئی جو انڈیا کے دھماکے کے بعد پوری قوم میں پیدا ہوگئی تھی۔ بات صرف مقابلے کی نہیں ہے مگر انڈیا کی جا رحیت پر پورا پاکستان روز اول سے یک زبا ن ہے سوائے چندایجنٹوں کے!

 

ہاں تو ذکر ہے اس دن کا جب پاکستان ایٹمی طا قت بنا! کیا فضا تھی؟ کیاجذبے تھے! پاکستان پر پابندیاں عائد ہونے لگیں توحکومت نے عوام کو سادگی کی تلقین کی اور ہم جوش میں اس پر عمل پیرا تھے۔ خوردنی تیل کی کمی کا حل ستعمال میں کمی ٹہرا! ہمیں اچھی طرح یاد ہے سالن میں گھی مقدار کم ہونے کی وجہ سے ذائقہ بھی تبدیل ہوگیا تھا۔ ایسی تر کیبیں سوچی جانے لگیں کہ فرائی کے بجائے بیک کے کھانے استعمال ہوں۔ بہانہ صحت کا بھی سامنے تھا؟ پراٹھوں پر پابندی لگ گئی (آج کھانے پر فرنچ فرائی تلتے ہو ئے شکر سے زیادہ فکر لاحق تھی۔آئل کی قیمت خواہ کچھ ہو زبان کے چٹخارے ضروری ہیں! یہ ہے آج کی سوچ!)۔ کھانے کی خوشبو بھوک پر بہت اثر ڈالتی ہے! ان دنوں لگتا تھا بھوک میں واقعی کمی ہوگئی تھی۔ اور یہ بھوک صرف غذا کی نہیں بلکہ ہر چیز میں نظر آ ئی مگر سب پر امید تھے کہ آئندہ ہم خوشحالی کی طرف گا مزن ہوں گے مگر خواب ریزہ ریزہ ہوئے جب عوام اور خواص کے درمیان لکیر واضح طور پر کھنچی نظر آئی۔بجلی کا بحران شاید اسی وقت عروج کی طرف گا مزن ہوا۔

 

بعد کے حالات دہرانا غیر ضروری ہے مگر فوجی حکومت کے قیام سے ایک مختلف حکمت عملی سامنے آئی۔ نیوکلئر پروگرام capکرنے اور بند کرنے کے آپشن پر بھی غور ہونے لگا۔پھر 9/11کے بعد تو صورت حال مکمل طور پر بدل گئی۔ ایک فون پر ڈھیر ہونے والے بھول گئے کہ وہ ایٹمی طاقت رکھتے ہیں ! محض ہتھیار یا اوزار کام نہیں کر تے بلکہ ان کو چلانے کا محرک جذ بے ہوتے ہیں ! کوشش ہوتی ہے! صلاحیت ہوتی ہے!

 

پھر امریکی امداد کے نام پر انفارمیشن دھماکہ کی اصطلاح عام ہوئی۔ واضح طور پرنیوکلیر طاقت کو بے اثر کرنا مقصد تھا۔ چینلز کی بھر مار! سیل فون کی تعداد معاشی ترقی کا indicator ٹھہری!سرمایہ کاری صرفIT کی فیلڈ میں نظر آ ئی۔ یہ سب کچھ برا نہ تھا اگر اس کے ساتھ ہمارا تشخص قائم رہتا! ہم خود مختاری اور خود انحصاری کے بجائے فقیر بن کر رہ گئے۔ ہر معاشی پالیسی بد سے بد تر تھی! تعیشات کو ضروریات بنا دیا گیا یوں ہر وہ چیز ہماری زندگی میں داخل ہو گئی جو معاشی اور معاشرتی لحاظ سے ہر گز تر جیح اول نہ تھے! توانائی کا شعبہ تو بد ترین بحران کا شکار ہوا۔رینٹل پاور کے بعد جنریٹرز اور یو پی ایس کی صنعت زور پکڑ گئی۔ایک رائے میں یہ بحران دراصل ان مصنوعات کے فروغ کے لئے ہے؟؟

 

کہنے سننے کو اس کے سوا کیا ہے کہ آج اس تاریخی دن جبکہ ہم اپنا سولہواں یوم تکبیر منا رہے ہیں ۔نئی حکومت بننے والی ہے۔ وہ صاف صاف کہہ رہی ہے کہ وہ اس بجلی کے بحران کو راتوں رات ٹھیک نہیں کر سکتے۔۔۔ بات درست ہے مگر تر جیحات تو طے ہو سکتی ہیں ! مسئلہ صرف معاشی دھماکہ کر نانہیں ہے بلکہ اپنی کھوئی ہوئی عزت اور وقار کو بحال کر نا ہے ۔ ہندو بنیے سے ٹماٹر لینا کوئی کامیابی نہیں ہے! اس سے کشمیر کے علاوہ کوئی بات نہیں کر نی!اور اس پر کسی سے کوئی ڈکٹیشن بھی نہیں لینا! دوسری بات یہ کہ ہمیں اس کی گندی اور بدبودارتہذیب کا فروغ ہر گزگوارانہیںجس کی تشہیر ہمارے planted چینلز دن رات کر رہے ہیں اور ہماری سڑکیں ان کے گندے بل بورڈز سے سجی ہوئی ہیں!

 

یہ باتیں بظاہر بے ربط لگ رہی ہوںمگران میں ایک واضح لنک موجود ہے! قوم اتنی بے وقوف نہیں ہے کہ اپنے مسائل کی جڑ تک نہ پہنچ سکے۔جی ہاں ! اگر چڑ یاں متحد ہو جا ئیں تو شیر کی کھال اتار سکتی ہیں اور یہ اسی وقت ہوگا جب اسے اپنے پیٹ پر بندھے پتھر کے مقابلے میں حکمرانوں کے پیٹ پر بندھے دو پتھر نظر نہ آئے!!! اس وقت نہ تخت رہے گا اور نہ بادشاہت!
یوم تکبیر زندہ باد اور ہندوستا نی تہذیب مردہ باد!

فیس بک تبصرے

دھماکہ دھماکہ ہے!“ پر 4 تبصرے

  1. بہت شوق سے پڑھنے آئی تھی آپ کی پوسٹ لیکن اتنی رنگین تھیم اور فانٹ اتنا باریک ، لکھائی بلکل واضح نہیں ۔۔۔

  2. اب وہ تھیم غائب ہوگئی :-/

  3. پاکستان کے حکمران بھارت کے جتنا جھکیں مگر عوام کو قومی غیرت اور خودمختاری پر کوئی سودے بازی منظور نہیں

Leave a Reply