آؤ احتجاج کریں

نوجوانوں کی ٹولی خاصی مشتعل تھی، ہاتھوں میں ڈنڈے اور پتلونوں میں پھنسے پستول کسی حکمران کے منتظر تھے جو انکے اشتعال کا بنیادی سبب تھا، کہ اچانک سنسان سڑک پر ایک کار نمودار ہوئی اور بلا کی پُھرتی سے نوجوانوں نے ٹرپل ون بریگیڈ کی طرح اپنی پوزیشنیں سنبھالنا شروع کردیں۔

 

جیسے ہی سڑک پر موجود رُکاوٹوں کی وجہ سے کار کی رفتار کم ہوئی مشتعل ہجوم نے دھاوا بول دیا۔ ڈنڈوں اور پتھروں کی بارش اس طرح برسی کہ اگر مملکت خدادادمیں ہر سال باران رحمت یونہی برسے تو واقعتا ہمیں کسی کالا باغ ڈیم کی ضرورت نہیں۔ اس اچانک حملے نے پاکستان کے اس حکمران کو شدید بوکھلادیا تھا۔ گاڑی خزاں کے موسم میں ٹوٹے پتّے کی طرح جُھولتی ہوئی فُٹ باتھ سے ٹکرا کر رُک گئے تھی۔ ہجوم کا غصّہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ آخر وہ ظالم کون ہے جو انکے پیاروں کی لاشوں کو بھُلا کر صبح سویرے اپنے کام پر جا رہا ہے۔

 

رُکی کار سے ایک خوبرو نوجوان زخمی حالت میں نمودار ہوا اور سڑک کے نسبتا پُر امن حصّے کی طرف دوڑنا شروع کردیا۔ ہجوم نے بھی اس کا پیچھا کرنے اور پتلونوں میں اُڑسی پستولیں نکالنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی کیونکہ بہرحال اُس نے عوامی ردّ عمل کے سامنے مزاحمت نہیں کی تھی۔ چونکہ گاڑی نئے ماڈل کی تھی اور غالب گمان کے مطابق بیمہ شدہ بھی ہوگی لہذا فورا اُسے آگ لگا دی گئی۔

 

گاڑی سے بلند ہوتے شعلوں کے پیچھے بھاگتا ہوا وہ سول و فوجی حکمران اب نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا۔ مگر چونکہ ابھی پورا دن باقی تھا اور خبروں کے لیئے ابھی خاطر خواہ مواد اکٹھا نہیں ہوا تھا اس لیئے ہجوم ابھی مزید شکار کا منتظر تھا۔
ہمارے مُعاشرے میں آئے دن ہونے والے اس طرح کے واقعات آپ کے مُشاہدے میں بھی ہونگے جس پر یقینا آپ تحفّظات بھی رکھتے ہونگے اور ان روّیوں کے حق یا مُخالفت میں دلائل بھی۔ مگر ہمیں فی الحال اس بحث سے کوئی غرض نہیں۔ اس طرح کے مُباحثوں کو الیکٹرانک میڈیا پر بیٹھے ہوئے دانشور نُما لنگوروں پر چھوڑ دیں۔

 

یہ روئیے چونکہ انسان کے حق حکمرانی کے جدید فلسفے کی دین ہیں تو اس کے مُطابق ہم سب بیک وقت حکمران بھی ہیں اورر رعایا بھی۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آج ہمارے پاس ” جمہوریت بہترین انتقام ہے” کا نعرہ موجود ہے تو احتجاج ہمارا آئینی و جمہوری حق بھی ہے۔

 

برائے مہربانی ان روّیوں کو تبدیل کرنے میں اپنا وقت ضائع نا کریں بلکہ انکا رُخ موڑنے کی کوشش کریں ۔ کم از کم پہلے مرحلے میں انکا رُخ باہر سڑک کے بجائے اپنے گلی محلّوں کی طرف کریں کیونکہ جن حکمرانوں کے ظلم کو ہم باہر سڑک پر پتھر مار کر للکارتے ہیں انہی حکمرانوں اور حکومتوں کے چیلے ہمارے گلی مُحلّوں میں ہی رہتے ہیں اور اس ظلم کے بازار کو گرم رکھنے میں بڑی حد تک شریک بھی ہوتے ہیں۔

 

کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جن لوگوں کو ہم اجتماعی صورت میں ایک لمحہ برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتے مگر انہی لوگوں سے انفرادی حیثیتوںمیں تعلقات بنانے کے خواہاں بھی رہتے ہیں۔ بہرحال ہمیں اپنے اس رویئے کا جائزہ ضرور لینا ہوگا۔ تواحتجاج ضرور کریں اور اگر آپ سمجھتے ہیں تو پتھر بھی ماریں مگر پہلے اپنے محلے کے ظالم حکمران کو نا کہ دوسرے محلے کے سڑک سے گزرتے ہوئے حکمران کو۔

 

احتجاج کا نا ہونا بھی مُعاشرتی صحت کے لیئے اتنا ہی نقصان دہ ہے کہ جتنا قبض کا انسانی صحت کے لیئے ۔۔۔۔۔۔

فیس بک تبصرے

آؤ احتجاج کریں“ ایک تبصرہ

  1. معاشرتی رویے کی بہت خوبصورت عکاسی ہے. ہم اپنا غم نمایاں کرنے کے لئے دوسروں کی زندگیوں میں غم گھولنا شروع کر دیتے ہیں جو قابل مذمت رویہ ہے.

Leave a Reply