میں ابن آدم ہوں!!

عورت کی مظلومیت پر آنسو بہانے کے ساتھ ساتھ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھا جائے کہ عورت خصوصاً ہمارے معاشرے کی عورت کس طرح ہمیشہ اپنے حق سے زیادہ لینے کے باوجود مزید کی طلب میں سرگرداں رہتی ہے یقینا جس کی ضرب صنف مخالف یعنی بے چارے مرد پر پڑتی ہے۔مرد اور بے چارہ؟ یقین نہیں آتا لیکن ہے حقیقت! کس طرح؟ آ ئیے دیکھتے ہیں۔
“Congratulation!It is a boy!” (مبارک ہو! بیٹا ہوا ہے) کا نعرہ ہر دور، ہر طبقے، ہر معاشرے میں یکساں پسندیدہ ہے۔ یہ پیغام ٹیلی فون سے ملے موبا ئیل پر SMSکےذریعے! مشرق کے والدین کو ملے یا مغرب کے والدین کو ملے! ہر صورت میں دل خوش کن ہوتا ہے اور پیدا ہونے والا بیٹا بھی اپنے اس استقبال پر خوشی سے پھولے نہیں سماتا کہ یہ جگہ تو جنت سے بھی زیادہ اچھی ہوگی۔ اس کی آمد پر لڈو بانٹے جاتے ہیں مگر کچھ ہی دن گزرتے ہیں کہ خوشی کا رنگ پھیکا پڑنا شروع ہوجاتا ہے۔

 

اس کو اتنی توجہ اور محبت نہیں ملتی جتنی بہن کو ملتی ہے اگر بہن کے لیے دس چیزیں آ ئیں گی تو اس بے چارے کے لیے صرف دو! اور پھر تو یہ سلسلہ چل نکلتا ہے۔ وہ اس ناانصافی پر آواز تو بلند نہیں کرسکتا لہذا توڑ پھوڑ مچا کر اپنی بھڑاس نکالتا ہے۔ الٹا یہ کہ تعذیب کا نشا نہ بنتا ہے۔پھر بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ اس رویہ میں اضا فہ ہوتا جاتا ہے۔گھر میں شور شرابا ہو، لڑائی جھگڑا یا کوئی اور معاملہ اس کو ہی ڈانٹ کا سامنا ہوتا ہے۔ بیٹی کو کمزور سمجھ کر ماں باپ کم ہی ہاتھ لگاتے ہیں ہاں اس بے چارے کی تو آئے دن مرمت ہوتی رہتی ہے۔ کوئی کام بگڑے اسی کا نام آتا ہے۔ باپ کی تنقید اورسختی کا کوڑا صرف اور صرف اسی پر برستا ہے۔ گھر سے باہر ہو تو کہا جاتا ہے کہ اڑا اڑا رہتا ہے اور اگر گھر میں رہے تو لو گوں سے ملنے جلنے کی تلقین کی جاتی ہے۔کوئی کام ہو تو اس کو ہی دوڑایا جاتا ہے۔ بیٹی کے تحفظ کے خیال سے اسے ادھر ادھر بھیجنے سے گریز کیا جاتا ہے  چنا نچہ وہ پڑھائی میں اتنا وقت نہیں دے پاتا اور اگر پڑھائی میں پھسڈی ہو تو تنبیہ میں اور اضافہ ہوجاتا ہے کہ کیرئیر بنانے کا ارادہ نہیں ہے؟؟

 
عید بقر عید یا تقریبات کے موقع پر صرف اور صرف بہن کی تیاریاں ہوتی ہیں۔ اس بے چارے کی عین وقت پر قمیض شلوار یا پینٹ بو شرٹ دلوا کر چھٹی ہوجاتی ہے (اب تو اس کے بھی بننے سنورنے کا نظریہ عام ہوگیا ہے لیکن کیا کہ اس کی ضرب بھی خود اسی کی جیب پر پڑتی ہے!) چنا نچہ وہ ان مواقعوں پر بہت گھبرایا ہوا رہتا ہے۔ پورے مہینے تراویح کی مشقت وہ کرتا ہے اور بہن کی عید کی شا پنگ آخری لمحوں تک مکمل نہیں ہوتی۔ بقرعید میں جانور کی خرید سے لے کر دیکھ بھال اور قصائی کی معاونت سے گوشت کی تقسیم تک وہ تھک کر چور ہوجاتا ہے جبکہ بہن بن سنور کر تہوار منا نے میں مصروف ہوتی ہے۔ اس کادل اپنی ہئیت کذائی اور ناانصافی پر بسورتا رہتا ہے۔ اگر کبھی بہن سے زیادتی کرے تو ڈانٹ پڑتی ہے کہ پرایا دھن ہے کیوں ستاتے ہو؟ بہن بڑی ہو تو اس کے حقوق کا داویلا، چھوٹی ہو تو اس کے حقوق کی دہائی۔ ہر صورت میں یہ ہی بے چا رہ سینڈوچ بنتا ہے۔

 
یہ کیفیت صرف گھر میں ہی نہیں ہوتی بلکہ تعلیمی ادارے میں بھی اسی کشمکش کا سامنا ہوتا ہے۔ کوئی بھی سخت کام ہو اسی کے حوالے کیا جاتا ہے۔ کسی بھی پرا جیکٹ کا مشکل ترین حصہ اس کے ذمہ آتا ہے ۔موسم، وقت، حالات اور طاقت نہ ہونے کی چھوٹ (exemption)صرف  لڑ کیوں کے حصے میں آتی ہے اور لڑ کا کوئی بہانہ استعمال نہیں کرسکتا چنانچہ یہاں بھی لڑکیاں اپنا زیادہ وقت پڑھائی میں خرچ کرنے کے با عث اعلٰی کامیابی حاصل کرتی ہیں۔ (ہاں اب تھوڑا ریلیف ملا ہے جب سے’’ عورت کسی سے کم نہیں!‘‘ کا سلوگن استعمال کر تے ہوئے بے وقوف  لڑکیاں انہونی سے کام کررہی ہیں)۔

 

گھر اور تعلیمی ادارے کے باہر بھی یہی صورت حال ہوتی ہے۔ سڑک پر کسی خاتون کی گاڑی کو دھکا لگانا ہو یا ٹائر بدلنا ہو اس کی مردانگی کو چیلنج ہوتا ہے۔ یا پھر ویگن کا سفر درپیش ہو تو خود خواہ کتنی ہی تکلیف سے گزر رہا ہو مگر کسی خاتون کے لیے سیٹ چھوڑنا اس کی مجبوری ہے ورنہ لوگ گھور  گھور کر دیکھنے لگتے ہیں ( ہاں اب برابری کے نعرے کے عام ہونے سے اس آزمائش سے کم ہی واسطہ ہوتا ہے) اس کو ہر جگہ قطار لگانی پڑتی ہے جبکہ عورت اپنے استحقاق کی بنیاد پر ہر جگہ جلد فارغ ہوجاتی ہے۔ کارخانے مرد کو ہی چلانے پڑتے ہیں، جنازے اسی کو پڑھانے ہوتے ہیں، جنگیں اسی کو لڑنی پڑتی ہیں۔ کچھ ذمہ داریاں اور فرائض تو اسلام نے اس کے ذمہ رکھے ہیں کچھ معاشرے کا دبائو ہوتا ہے اور اب سب سے بڑھ کر زندگی مغرب زدہ ہونے کی وجہ سے بجٹ بڑھنے کا اثر مرد پر ہی پڑتا ہے۔

 

تعلیم کے بعد جب عملی دنیا میں قدم رکھنے کا وقت آتا ہے تو بھی یہ مسائل ہوتے ہیں۔ بہن خواہ کتنی ہی اعلٰی تعلیم یافتہ ہو اور کتنے ہی شاندار نمبروں سے پاس کرے اس پر ملازمت کا کوئی دبائو نہیں جبکہ اس بے چارے کو اچھی سے اچھی ملازمت حاصل کرنے اور خوب کمانے کا مسلسل دبائو اپنی لپیٹ میں لیے رکھتا ہے آخر اسے فیملی کو سپورٹ بھی تو کرنا ہے۔ جب وہ انٹر ویو کے لیے پہنچتا ہے تو یہی بنت حوا جو روز اول سے اس پر حاوی ہے یہاں بھی اس سے بازی لے جانے کی منتظر ہوتی ہے۔ چنانچہ اپنے شاندار تعلیمی کوائف اور عورت ہونے کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرلیتی ہے اور یہ بے چارہ منہ دیکھتا رہ جاتا ہے۔ آخر جوتیاں چٹخانے کے بعد ملازمت ملتی ہے تو یہاں بھی عورت جو شوقیہ کررہی ہوتی ہے اس کے برابر تنخواہ حاصل کرنے کے باوجود کام کا بوجھ کہیں کم اٹھاتی ہے۔ موسم خراب ہو یا حالات عورت کو کام پر پہنچنے سے استثنا مل جاتا ہے۔ گھریلو حالات یا بچوں کی ذمہ داریوں کی وجہ سے اکثر و بیشتر عورت اپنی ڈیوٹی پر پہنچنے سے قاصر ہوتی ہے۔ یہاں پر بھی مرد کو ہی اس کے حصے کا کام پڑتا ہے۔اور عورت یہ سب کچھ for granted لیتی ہے۔

 

زندگی کا ایک اہم موڑ شادی ہوتا ہے۔ اس معاملے میں بھی اس کو منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ اس کے والدین دن رات اپنی بیٹیوں کی شادی کی فکر میں گھلتے رہتے ہیں اور اس کے بارے میں تو بس یہی سوچا جاتا ہے کہ اچھی طرح کما کر گھر بنالو پھر شادی کی فکر کرنا! کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ اسے اپنی بہن کا گھر بچانے کے لیے اس کی نند سے شادی کرنی پڑتی ہے اور کبھی والدین اسے بدلے میں دے کر اپنی بیٹی کا گھر بساتے ہیں۔ اور کبھی یوں ہوتا ہے کہ اس کی گودوں کھلائی بہن کے بچے جب بڑے ہونے لگتے ہیں تو انہیں اپنے ماموں کی شادی کا شوق چراتا ہے۔ ماں، بہن اور کزنز کی مہم جوئی یہ مرحلہ سر کرتی ہے تو پھر شادی کے جملہ اخراجات، مہر کی رقم کے علاوہ بری کے زیورات اور جوڑے توڑے اس کا کچومر نکال کر رکھ دیتے ہیں اور اکثر وہ مہر کی رقم پر ڈنڈی مار دیتا ہے اور خود گناہگار بن جاتا ہے۔ شاید اسی لیے جس لڑکے کو موقع ملے وہ غیرملکی عورت کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ وہاں صرف ایک ویڈنگ رنگ سے کام چل جاتا ہے اور اس کی ذمہ داریاں بھی پاکستانی عورت کے مقابلے میں کم ہوتی ہیں۔

 

شادی کے بعد مرد کی مظلومیت کا ایک نیا باب کھل جاتا ہے کیونکہ گھر میں بیوی کے آ نے سے اختیارات اور اقتدار کا توازن بگڑنے لگتا ہے۔ ایک نیام میں دو تلواریں بھلا کہاں سماسکتی ہیں؟ لہذا بہو میں علیحدگی پسند تحریک زور پکڑنے لگتی ہے۔ اس تمام تر لڑا ئی میں بے چارہ مرد ہی سینڈوچ بنتا ہے۔ پھر الگ گھر لیا جاتا ہےجو میکے سے قریب اور سسرال سے کوسوں دور ہوتا ہے۔ اپنی گلی میں تو کتا بھی شیر ہی ہوتا ہے !

 

یہاں آ کر مرد کو آٹے دال کا بھائو پتہ چل جاتا ہے جب اسے ذہنی اور مالی چوٹ کا سامنا ہوتا ہے۔ مشترکہ رہائش میں بہت سی چیزوں کا پتہ نہیں چلتا مگر یہاں آکر نہ صرف ہر چیز بنانی پڑتی ہے بلکہ گھر کے کاموں میں بیوی کا ہاتھ بٹانا پڑتا ہے۔ اور چونکہ سسرال قریب ہوتا ہے لہذا ساس، سسر اور سالے سالیوں کے نخرے بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔

 

جب اپنے والدین سے ملنے جاتا ہے تو وہاں اسے ماں کا یہ جملہ بھڑکانے کے لیے کافی ہوتا ہے کہ دکھ تو اٹھائیں ماں باپ اورعیش اٹھائے بیوی! والدین کے حقوق کا اسے بھی علم ہے مگر وہ وقت اور پیسہ کہاں سے لائے؟ بیوی کوہر وقت اپنے حقوق کے تحفظ کی فکر ہوتی ہے اور وہ بھی اس سلسلے میں قرآن اور حدیث کا حوالہ دے کر شوہر کا منہ بند کردیتی ہے۔ بیوی کو صرف اتنا پتہ ہے کہ عورت شوہر کی کمائی کی واحد حق دار ہے، اب اگر شوہر اسے یہ بات بتانے کی کوشش کرے کہ مرد اپنی بیوی کے نان نفقے کا ذمہ دار ہے، یہ نہیں کہ ساری کمائی لاکر اس کے ہاتھ پر رکھ دے اور پائی پائی کا حساب دے تو بس آ نسوئوں کی برسات شروع ہوجاتی ہے کہ عورت پر ظلم ہورہا ہے! اس سلسلے میں عورت چاہے کتنی ہی قصور وار ہو ظالم مرد ہی گردانا جاتا ہے جس طرح کہ سڑک پر حادثے کی صورت میں خواہ قصور سائیکل سوار ہی کا کیوں نہ ہو زیادتی ٹرک ڈرائیور کی ہی کہلاتی ہے۔
ان معاملات میں صرف بیوی ہی کافی نہیں ہوتی اس کے رشتہ دار بھی آگے آگے ہوتے ہیں۔ بیوی کی خالہ سے ملنے گئے تو انہوں نے چھوٹتے ہی کہا  ’’۔۔۔۔۔اے ہے تمہارا رنگ کتنا زرد ہورہا ہے! ارشد سے کہو کہ جوسر خرید لے کہ جوس پی کرکچھ طاقت آئے۔‘‘ یہ جملہ سن کر بے چارے ارشد کے دل پر کیا گزرتی ہے؟ وہ جوسر تو کسی نہ کسی طرح خرید لے مگر جوس نکالنے کے لیے فروٹ کی پیٹی کہاں سے روزانہ لائے گا؟ اپنی جان ہی پیش کرسکتا ہے۔ یا پھر کوئی سہیلی ملاقات کو آجائے تو منہ بنا کر کہتی ہے ’’۔۔۔۔۔تمہارا رنگ کتنا جل گیا ہے! ظفر بھائی سے کہو A.C   لگوائیں! ۔۔۔‘‘  بے چارہ ظفر جوڑ توڑ کر کے A.C تو لگوالے مگر ہر ماہ بجلی کا بل کون دے گا؟؟

 

بس ان فرمائشوں کو پورا کرنے کے لیے اسے پارٹ ٹائم یا ڈبل نوکری کرنی پڑتی ہے اور اس پر ستم یہ کہ گھر پہنچے تو بیوی تیار بیٹھی ہو کہ باہر چل کر کھانا کھائیں میں بہت تھک گئی ہوں یا پھر اتنا بدمزہ کھانا ملے کہ کہ کاش دن بھر ککنگ چینل دیکھنے کے بجائے کچھ سیکھ کر اپلائی بھی کیا جائے۔ یا پھر گھر پہنچنے پر بچے حوالے کردیے جائیں کہ میں صبح سے سنبھال رہی ہوں اب آپ دیکھیں!! اور وہ جل کر سوچتا ہے کہ بہن بھائیوں کے بچے پال پال کر تو زندگی گزاری ہے اب اپنوں کو تو پالنا ہی ہے اور پھر آجکل کے بچے؟؟ انہیں بھی اپنے حقوق کا اچھی طرح علم ہے۔ اس لئے وہ بڑی بڑی فرمائشیں کرنے سے نہیں چوکتے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ اس کو پورا کرنا باپ کی ذمہ داری ہے۔ چونکہ بچے ایک جنریشن آگے ہوتے ہیں لہذا ان کی خواہشات بھی باپ کی سوچ سے ہمیشہ آگے ہی چلتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اپنی تمام ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے بعد جب آرام کا وقت آتا ہے تو یہاں بھی عورت کا پلہ بھاری ہوتا ہے۔ چونکہ عورت مرد سے زیادہ نڈھال اور بیمار ہوتی ہے لہذااس کی دیکھ بھال اور علاج معالجہ شوہر کے ذمہ ہی ہوتا ہے کیونکہ اولادیں تو اپنی اپنی راہ لیتی ہیں۔ آخری عمر میں سر پکڑے بے چارہ ابن آدم سوچتا ہے کہ ناحق ہی باوا آدم نے جنت کی تنہائی سے گھبرا کر ساتھی کا مطالبہ کیا تھا یا پھر اس خوش فہمی پر آزردہ ہوتا ہے کہ جب اس کی دنیا میں آمد پر Hay! It’s boy  کا نعرہ ڈاکٹر سے لے کر جمعدار نے لگا یا تھا۔

 

دیکھا آپ نے بے چارے مرد کی مظلو میت!! اور اس کی مظلومیت کا المناک پہلو یہ ہے کہ اس کی مظلومیت تو گردانی ہی نہیں جاتی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جہاں عورت کی مظلو میت پر لکھنے اور پڑھنے سے آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں وہاں مرد کی مظلو میت کا تذکرہ کرنے سے ہونٹوں کے گوشے قہقہہ لگانے کو بے تاب ہوجاتے ہیں۔

فیس بک تبصرے

میں ابن آدم ہوں!!“ پر 27 تبصرے

  1. ہمیں تو شک نہیں بلکے یقین ہے کے مردوں نے آنے بہانے اپنے حقوق خواتین کے حقوق سے زیادہ رکھیں ہوئے ہیں ۔ اگر آپ کو لگتا ہے کے آپکی نظریاتی مخالف خواتین اپنی اوقات سے بڑھ کر حقوق مانگتی ہیں تو ایسی صورت میں دو باتیں ہو سکتی ہیں ۔ ایک یہ کے وہ نظریاتی مخالف خواتین آپ کو زاتی طور پر اچھی نہیں لگتیں ۔ دوسری بات یہ کے آپ کو ان نظریاتی موافقین سے تعریف مل جاتی ہیں جنہیں آپکی نظریاتی مخالف خواتین کو بھرا بھلا کہنے کا موقع مل جاتا ہے ۔

  2. شکر ہے کسی کو مرد کی مظلومیت کا تو خیال آیا، واللہ آپ کی جراءت رندانہ کو سلام۔۔۔
    جب جدوجہد حقوق مرداں کی تاریخ لکھی جائیگی تو آپ کی اس کوشش کے بغیر یہ نامکمل رہیگی۔ آپ کی یہ پوسٹ مظلوم مردوں کی آواز کو تحرک دینے کا باعث بنے گی انشاءاللہ 😀

    • وقار بھائی… آپ اتنی جلدی مظلوم ہو گئے… ہمیں تو مظلوم ہوتے ہوتے چار سال لگ گئے…

      • لولزززززز۔۔۔۔
        عمران بھائی ہم ابھی یہ والے مظلوم نہیں ہوئے۔۔۔
        یہاں شادی سے پہلے کی کہانی ہماری کہانی سے ملتی جلتی ہے۔ 😀

      • مرد بھی کچھ کم نہیں ہوتے جناب۔۔۔۔ نیٹ پر بیٹھ کر سارے مظالم کا حساب چکتا کردیتے ہیں۔ اور بیوی کو خوب ٹینشن دیتے ہیں۔۔۔۔

        • بہن، آپی، باجی، وغیرہ کی تسبیحاں پڑھتے ہوئے ۔ یا پھر لبرل ازم کا نام لے لے سلواتے سناتے ہوئے ۔ ؟؟

          • لبرل ازم والی بات تو صحیح ہے مگر یہ بہن، باجی اور آپی والی بات کچھ سمجھ نہیں آئی۔

          • bla۔۔۔ bla۔۔۔ bla۔۔۔ bla۔۔۔
            ہمیشہ کی طرح۔۔۔

            جاہل صاحب، آپ کا اپنے آپ کو سمجھدار، منفرد اور بڑا فلاسفر بننے کا شوق آپ کو حد درجے تک جاہل ثابت کرتا ہے… کیا ہی اچھا ہوتا کہ کام کی تحریر پر اسی کام کی مطابقت سے تبصرے کیا کریں… تو شاید مزہ آ ہی جائے… اور کچھ دوسرے خواتین و حضرات کی طرح ہر ایک سے سینگ اڑانا چھوڑیے… اچھا لکھیے، اچھا پڑھیے اور اچھے تبصرے کیجیے…

        • جواد بھائی، سنکی صاحب کو سمجھ نہیں آئی آپ کی بات شاید اور وہ اسے بھی اپنی پسندیدہ سمت لے گئے 😉

  3. اعلیٰ… بہت اعلیٰ…
    ہر مرد کی کہانی…

  4. “جس طرح کہ سڑک پر حادثے کی صورت میں خواہ قصور سائیکل سوار ہی کا کیوں نہ ہو زیادتی ٹرک ڈرائیور کی ہی کہلاتی ہے۔”

    اعلیٰ

  5. مردوں کے حقوق کی وکالت، بہت خوب۔ 😀

  6. بہت خوب۔۔۔۔ آپ نے تو مردوں کو دو پیروں والا درندہ قرار دینے کی کوششوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

  7. اللہ پاک نے مردوں کو فضیلت ان تمام چیزوں کی وجہ سے ہی دی ہے کہ اُسے زندگی میں ان چیزوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگرافسوس نہ ہی آج تک ہم مرد اپنی فضیلت کی وجوہات کو سمجھے اور نہ ہی کسی نے اسکی قدر کی. اللہ کرے کہ ہم سمجھ جائیں. حقوقِ نسواں پر میں نےایک افسانہ”آئینہ” لکھا تھا… زندگی رہی تو کبھی پوسٹ کروںگا. اور نہ مرد اپنی ذمے داریاں پوری کرکے عورتوں پر احسان کررہے ہیں اور نہ ہی عورتوں کے کام مردوں پر احسان ہیں. یہ سب چیزیں ہمارے فرائض میں ہے بس توازن اور احترام ہونا چاہیے اور یہ احساس بھی کہ کوئی ہمارے لیے کتنی مشقت جھیلتا ہے… یہ احساس پیدا ہوگیا تو انشااللہ زندگی بہت اچھی ہوجائے گی. بہرحال اگر تمام محترم خواتین مردوں کا احساس کرنے لگ جائیں تو پھر بھی ہم بس یہی کہہ سکیں گے کہ…
    “کی مِرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ
    ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا”

    اچھی اور احساس سے بھرپور کوشش ہے …اللہ آپ کو اس ہمدردی کی جزا دے اور جو مرد عورتوں کے احسانات کو فراموش کرتے ہیں اللہ اُنہیں عورتوں کی قدر کرنے والا بنائے…آمین!

  8. السلام علیکم
    بہت خوب فرحت بہن، آپ نے بہت خوبصورتی سے تصویر کا دوسرا رخ دکھایا- اور ہم بھی مرد کی مظلومیت پر اسکے لئے دکھی ہیں- اور اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں عورت بنایا-

    میرے بھائ نے تو جل کر ہم بہنوں کا نام ہی ” امی کی شہزادیاں” رکھ دیا تھا 🙂
    مگر ایک بات ہے جس مرد کو بہن کی شکل میں آُپ سی ہمدرد مل جائے ، وہ اب ایسا بھی مظلوم نہیں رہتا 🙂

  9. مارکیٹ میں نئی کانپسیریسی تھیوری آئی ہے کہ “قلم کاروان” کا گھوسٹ مصنف “کاشف نصیر” یا “وقار اعظم” ہے… اس افواہ میں کتنی حقیقت ہے… اور ہر مضمون کے آپ کو کتنے پیسے ملتے ہیں…
    🙂 🙂 🙂

    • نا میں جویدچوہدری تھوڑی ہوں کہ ایک آرٹیکل کے لاکھوں ملیں۔ 🙂
      ویسے اس کانسپیریسی تھیوری میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ قلم کارواں کے لکھاری ماشاءاللہ بہت اچھا لکھتے / لکھتی ہیں۔ ہماری کیا اوقات گھوسٹ رائٹنگ کی۔
      اب فرحت طاہر صاحبہ نے کیا خوب لکھا ہے۔ ہم تو ایسا لکھنے کی خواہش ہی کرسکتے ہیں…

      • ٍٍفرحت طاہر صاحبہ نے تو کمال ہی لکھا ہے… اس پر کوئی دو رائے نہیں… لیکن یقین مانیے کہ طرز تحریر آپ سے اور کاشف نصیر سے بہت ملتا جلتا ہے…

  10. عورت ہے ہی صنف نازک۔ مرد کا میدان عمل الگ ہے اور عورت کا الگ۔ مذکورہ تحریر میں جو حضرت نے ذکر کیا ہے اسکو یہ سب کچھ لکھنے سے قبل عورت اور مرد کے ایریاز معلوم کرنا چاہیے تھا۔

  11. دیکھا آپ نے بے چارے مرد کی مظلو میت!! اور اس کی مظلومیت کا المناک پہلو یہ ہے کہ اس کی مظلومیت تو گردانی ہی نہیں جاتی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جہاں عورت کی مظلو میت پر لکھنے اور پڑھنے سے آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں وہاں مرد کی مظلو میت کا تذکرہ کرنے سے ہونٹوں کے گوشے قہقہہ لگانے کو بے تاب ہوجاتے ہیں۔
    .
    .
    .
    بہت ہی اعلیٰ اور زبردست لکھا ۔اخری پیرا پڑھ کر بے ساختہ مسکرا گیا۔
    چلو کسی کو تو مردوں کی مظلومیت کا بھی احساس ہوا ہے۔

    ایک نقطہ یہ بھی ہے کہ بہنوں کی شادیوں کے بعد جب بھی وہ والدین کے گھر آتی ہیں تو بس ایک بار پھر بھائی کی شامت اجاتی ہے، اسکے لئے جوڑا لاو ،اسکے بچوں کو تحفے لا کر دو، یہ کر و، وہ کرو۔

  12. اگر مزاح تھا تو بد قسمتی سے ہنسی نہیں آئی۔
    اگر سنجیدہ لکھا ہے تو نہایت بچگانہ تحریر ہے 🙂

  13. آپ نے اس تحریر میں مردوں کی مظلومیت کے ایسے گوشوں سے پردہ اٹھایا ہے جن سے مرد خود بھی اگاہ نہیں ہیں

Leave a Reply